آسام کے این آر سی میں 2.90 کروڑ لوگ پائے گئے جائز شہری، پڑھیں خاص باتیں

آسام کے قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کا دوسرا اور آخری مسودہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس میں 3.29 کروڑ درخواست دہندگان میں سے 2.90 کروڑ درخواستیں درست پائی گئی ہیں۔

Jul 30, 2018 11:58 AM IST | Updated on: Jul 30, 2018 12:59 PM IST
آسام کے این آر سی میں 2.90 کروڑ لوگ پائے گئے جائز شہری، پڑھیں خاص باتیں

آسام ملک کی واحد ریاست ہے جس کا این آر سی ہے۔

آسام کے قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کا دوسرا اور آخری مسودہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس میں  3.29 کروڑ درخواست دہندگان میں سے 2.90 کروڑ درخواستیں درست پائی گئی ہیں۔ مسودہ سے 40 لاکھ درخواست دہندگان کے نام غائب ہیں۔ بتا دیں کہ آسام میں این آر سی کا پہلا مسودہ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں جاری کیا گیا تھا۔ پہلے مسودہ میں  3.29 کروڑ درخواست دہندگان میں سے 1.9 کروڑ لوگوں کے نام  شامل کئے گئے تھے۔

این آر سی کے ریاستی کوآرڈنیٹر پرتیک ہزیلا کے مطابق، حتمی مسودہ ریاست کے تمام این آر سی سیوا کیندروں میں دوپہر تک جاری کر دیا جائے گا۔  پھر درخواست دہندگان اپنے نام  فہرست میں دیکھ سکیں گے۔ اس فہرست میں درخواست دہندگان کے نام، پتے اور تصویریں بھی  شامل ہوں گی۔ بتا دیں کہ این آر سی میں ان تمام بھارتی شہریوں کے ناموں کو شامل کیا جائے گا جو 25 مارچ 1971 سے پہلے سے آسام میں رہ رہے ہیں۔

ریاست میں این آر سی کے حتمی مسودہ کے جاری ہونے کو لے کر کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں جگہ جگہ سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ حساس علاقوں پر خاص طور پر نظر رکھی جا رہی ہے۔  ریاستی حکومت نے لوگوں سے تحمل برتنے اور کسی بھی قسم کی افواہ میں نہیں آنے کی اپیل کی ہے۔

جانیں این آر سی کے بارے میں چند خاص باتیں

Loading...

آسام ملک کی واحد ریاست ہے جس کا این آر سی ہے۔ این آر سی ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والے غیر ملکی باشندوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  اگر آپ آسام کے شہری ہیں اور ملک کے دوسرے حصے میں رہ رہے ہیں یا کام کر رہے ہیں تو آپ کواین آر سی میں اپنا نام درج کرانے کی ضرورت ہے۔

پورا مسئلہ آسام آندولن  سے جڑا ہے۔ 1985 کا معاہدہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف چھ سال تک پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا نتیجہ تھا۔ اسے آسام آندولن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ  آسام کی 4،096 کلومیٹر کی سرحد کا حصہ لگتا ہے۔

آسام کی آبادی میں مسلمانوں کی حصہ داری سال 1961 میں 23.3 فیصد تھی۔ یہ بڑھ کر سال 2011 میں 34 فیصدی ہوئی ہے جیسا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے۔  تاہم، اس میں ابھی بھی واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آسامی، بنگالی یا بنگلہ دیشی ہیں۔

آسام کے اصل باشندوں کا ماننا ہے کہ غیر قانونی طور پر یہاں آباد لوگ ان کا حق مار رہے ہیں۔ اس معاملہ کو لے کر 80 کی دہائی ایک بڑا آندولن ہوا۔ اس کے بعد آسام گن پریشد اور اس وقت کی راجیو گاندھی حکومت کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا۔ اس میں طے ہوا کہ 1971 تک جو بھی بنگلہ دیشی آسام میں گھسے ہیں انہیں شہریت دی جائے گی اور بقیہ کو جلاوطن کر دیا جائے گا۔ حالانکہ سمجھوتہ آگے نہیں بڑھا ، طویل مدت کے بعد اس پر پھر سے کام شروع ہوا۔

 آسام میں غیر قانونی طور پر رہ رہے بنگلہ دیشی شہریوں کا پتہ لگانے کے لئے این آر سی  جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں 24 مارچ، 1971 کی نصف شب کے بعد سے غیر قانونی طور پر ریاست میں گھس آئے بنگلہ دیشی شہریوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔

Loading...