یکساں سول کوڈ سے متعلق مولانا ولی رحمانی کا بیان افسوس ناک: بنگال مسلم مجلس مشاورت

کلکتہ۔ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے مغربی بنگال مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ قانون سازی یا قانون میں ترمیم کرنے کا کام عدلیہ کا نہیں بلکہ مقننہ (قانون ساز ادارے مثلاً پارلیمنٹ یا اسمبلیوں) کا ہے۔

Dec 27, 2016 08:36 AM IST | Updated on: Dec 27, 2016 08:37 AM IST
یکساں سول کوڈ سے متعلق مولانا ولی رحمانی کا بیان افسوس ناک: بنگال مسلم مجلس مشاورت

کلکتہ۔ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے مغربی بنگال مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ قانون سازی یا قانون میں ترمیم کرنے کا کام عدلیہ کا نہیں بلکہ مقننہ (قانون ساز ادارے مثلاً پارلیمنٹ یا اسمبلیوں) کا ہے۔اس لیے مولانا کا یہ کہنا کہ سپریم کورٹ اگر یکساں سول کوڈ نافذ کرے گا تو مسلم پرسنل لاء بورڈ اسے قبول کرے گا، گمراہ کن ہے اور اس سے غلط پیغام جائے گا۔ مغربی بنگال مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری عبد العزیز نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا کو اس ملک کے قانونی نظام کے بارے میں معلومات ہونا چاہئے کہ قانون بنانے یا قانون میں ترمیم کرنے کا کام عدلیہ کا نہیں بلکہ مقننہ کا ہے اور عدلیہ قانون کا نفاذ بھی نہیں کرتی بلکہ یہ کام انتظامیہ کا ہے۔خیال رہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے بھٹکل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر سپریم کورٹ یکساں سول کوڈ نافذ کرتی ہے تو ہم اس کو تسلیم کرلیں گے ۔عبد العزیز نے کہا کہ مولانا کے اس بیان پر بورڈ کی قیادت کی خاموشی سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بورڈ کی قیادت لاعلمی اور ناواقفیت یا دباؤ کی شکار ہے۔ اگر بورڈ کا یہی حال رہا تو شریعت کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوسکتا ہے۔

مشاورت کے سکریٹری نے کہا کہ بورڈ کے ذمہ داروں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ موجودہ حکومت اگر یکساں سول کوڈ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے یکساں سول کوڈ کا سرکاری بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوگا۔ دونوں ایوانوں میں بحث و مباحثہ کے بعد خدا نخواستہ اگر بل پاس ہوگیا تو صدر جمہوریہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اگر صدر جمہوریہ نے منظوری نہیں دی تو اس پر حکومت غور و خوض کے بعد دوبارہ بھیج سکتی ہے پھر صدر جمہوریہ منظوری دینے کا پابند ہوگا۔ قانون کے ماہرین اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ہندستان مختلف مذاہب اور مختلف رسوم و رواج کا ملک ہے۔ یہاں یکساں سول کوڈ بنایا ہی نہیں جاسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ دستور ساز کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر امبیڈکر کی دستور ساز کمیٹی کی بحث کی روداد میں یہ بات آج بھی پڑھی جاسکتی ہے کہ کوئی پاگل حکومت ہی یکساں سول کوڈ بنا سکتی ہے۔ بورڈ کے نمائندے یا ذمہ دار اگر سپریم کورٹ کو عدل و انصاف کرنے کا ادارہ تسلیم کرنے کے بجائے قانون ساز ادارہ مانتے ہیں تو ناواقفیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ جہاں تک بابری مسجد کے تنازعے کے فیصلے کی بات ہے تو وہ یقیناًسپریم کورٹ فیصلہ دے سکتا ہے کہ دونوں فریقوں میں سے کس کی بات عدل و انصاف کے قریب ہے۔ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے جو بات سپریم کورٹ میں کہی جاتی ہے یا کہی گئی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ سپریم کورٹ حکومتوں پر یکساں سول کوڈ بنانے پر زور کیوں نہیں دیتا۔

Loading...

Loading...