بہار : کیسے بس حادثہ میں 27 لوگوں کی موت کی خبر نکلی جھوٹی

جمعرات کی شام تقریبا ََ 4 بجے خبر آئی تھی کہ بہار کے مشرقی چمپارن ضلع کے کوٹوا میں بس پلٹنے سے آگ لگ گئی۔

May 04, 2018 08:20 PM IST | Updated on: May 04, 2018 08:20 PM IST
بہار : کیسے بس حادثہ میں 27 لوگوں کی موت کی خبر نکلی جھوٹی

بس حادثہ کی تصویر

جمعرات کی شام تقریبا ََ 4 بجے خبر آئی تھی کہ بہار کے مشرقی چمپارن ضلع کے کوٹوا میں بس پلٹنے سے آگ لگ گئی اور اس میں 10 مسافرکی موت ہو گئی ۔ شام بڑھتی گئی اور مرنے والوں کی تعداد 27 تک پہونچ گئی ۔

آخرکار دیر رات ضلع انتظامیہ نے کہا کہ اس حادثہ میں کسی کو موت نہیں ہوئی ہے ۔ تاہم اسے آپ فیک نیوز کہیں لیکن اس حادثہ پر ریاست کے تمام بڑے لیڈران اور افسران کو یقین ہو گیا۔

Loading...

واضح رہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی اس حادثہ پر افسوس ظاہر کیا تھا ۔ ایک پروگرام میں نتیش کمار نے دو منٹ کا مون بھی رکھوایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مقامی افسران حادثہ کی جگہ پر پہونچ گئے ہیں۔ جن لوگوں کی موت ہئی ہے ، ان کے خاندان کی مدد کرنے کی ہم پوری کوشش کریں گے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے 4 لاکھ روپے معاوضے کا بھی علان کیا تھا۔

شام چھ بجے تک تقریبا ََ تمام لیڈران نے تعصب پیغام ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ فیس بک سے لے کر ٹویٹر ہر سوشل پلٹفارم پر لوگوں کے پیغام نظر آنے لگے۔ ایک ٹویٹر میں نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد 24 یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

ڈزاسٹر منجمنت وزیر دنیش چندر یادو نے جمعرات کو خود بیان دیا تھا کہ یہ بہت افسوس ناک حادثہ ہے ۔ اور مرنے والوں کے خاندان کو 4 لاکھ کا معاوضہ دیا جائے گا۔

مذکورہ حادثہ کے تحت انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ 13 لوگوں کی بکنگ تھی ۔ جس میں سے آٹھ کو اسپتال لے جایا گیا ۔ لیکن باقی مسافرین کا کوئی سراگ نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ موقع پر نکل گئے ہوں ۔

بیگوسرائے سے بس میں بیٹھنے والے امت کمار نے کہا ’’ بس میں 13 سے زیادہ لوگ تھے ، مجھے نہیں لگتا تمام لوگ بس سے حفاظت کے باہر نکلے ہوں گے۔ بس میں بچے اور بزرگ بھی شامل تھے ‘‘۔

 

Loading...