مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کا وجود خطرے میں ، تعلیم پہلی کلاس سے فاضل تک کی ، مگر اساتذہ صرف پانچ

بہار کے اقلیتی اداروں میں اساتذہ کی بحالی نہیں ہونے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ پٹنہ میں قائم مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں اساتذہ کی کمی کے سبب ادارہ کا وجود خطرہ میں ہے۔

Apr 26, 2018 09:40 PM IST | Updated on: Apr 26, 2018 09:40 PM IST
مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کا وجود خطرے میں ، تعلیم پہلی کلاس سے فاضل تک کی ، مگر اساتذہ صرف پانچ

پٹنہ : بہار کے اقلیتی اداروں میں اساتذہ کی بحالی نہیں ہونے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ پٹنہ میں قائم مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں اساتذہ کی کمی کے سبب ادارہ کا وجود خطرہ میں ہے۔ دانشوروں کے مطالبات کے بعد بھی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اب تک کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کا قیام بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے پہلے کیا گیا تھا۔ شمس الہدیٰ مدرسہ کے سبب ہی مدرسہ بورڈ قائم کیاگیا۔ کبھی اس ادارہ سے تعلیم حاصل کر کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے ، لیکن آج یہ ادارہ اپنی خستہ حالی پر آنسو بہا رہا ہے۔

ملک میں تین مدارس ایسے ہیں جو پوری طرح سے سرکاری ہیں۔ کولکاتہ اور رام پور کا مدرسہ عالیہ اور تیسرا مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ۔ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کو چھوڑ کر دونوں اداروں کی کافی ترقی ہوئی ہے ،لیکن بہار حکومت کے ماتحت چلنے والے مدرسہ شمس الہدیٰ میں برسوں سے اساتذہ کی خالی اسامیوں پر بحالی نہیں ہوسکی ہے۔ پہلی کلاس سے فاضل تک کے طلبہ کو پڑھانے کیلئے محض پانچ اساتذہ موجود ہیں۔ باقی کے 15 عہدہ خالی پڑے ہیں۔

مدرسہ کے قیام کے وقت مدرسہ میں منظور شدہ 35 اسامیاں ہیں۔ 20 ٹیچر کی اور باقی غیر تدریسی ملازمین کی۔ غیرتدریسی ملازمین کے 8 عہدہ خالی ہیں۔جبکہ اساتذہ کی 15 اسامیاں خالی ہیں۔ جانکاروں کے مطابق مزید اسامیاں بڑھانے کی بجائے منظور شدہ اسامیوں پر بھی بحالی نہیں ہونا حکومت کی نیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔

Loading...

محفوظ عالم کی رپورٹ

Loading...