قبر سے آئی رونے کی آواز، اہل خانہ نے دیکھا تو زندہ پڑا تھا نوزائیدہ

گوپال گنج صدر اسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ جب ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے نوزائیدہ بچے کو مردہ قرار دے دیا اور جب رشتہ داروں نے بچے کو مٹی میں دفن کر دیا تب بچے کی قبر سے رونے کی آواز آئی۔

Jun 27, 2018 06:00 PM IST | Updated on: Jun 27, 2018 06:01 PM IST
قبر سے آئی رونے کی آواز، اہل خانہ نے دیکھا تو زندہ پڑا تھا نوزائیدہ

قبر میں تدفین کے بعد زندہ ہوا نوزائیدہ

گوپال گنج صدر اسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ جب ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے نوزائیدہ بچے کو مردہ قرار دے دیا اور جب رشتہ داروں نے بچے کو مٹی میں دفن کر دیا تب بچے کی قبر سے رونے کی آواز آئی۔ بچے کے رونے کی آواز سن کر اہل خانہ نے نوزائیدہ کو قبر سے باہر نکالا اور اسے صدر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے کر آئے۔ لیکن تب تک زیادہ خون بہنے کی وجہ سے بچہ کی موت ہو گئی تھی۔ یہ واقعہ صدر اسپتال کے ایس این سی یو وارڈ کا ہے۔

متوفی بچے کے والد کا نام نیرج پرساد ہے۔ وہ تھاوے کے پٹھوری کے رہنے والے ہیں۔ نیرج کی بیوی دویا کماری کو درد زہ کے بعد اس کے بچے کو منگل کو صدر اسپتال کے ایس این سی یو وارڈ میں بھرتی کرایا گیا۔ یہاں سے بدھ کو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کرشنا کمار نے بچے کو مردہ قرار دیتے ہوئے اسے دفن کرنے کی صلاح دی۔

Loading...

ڈاکٹر کے مشورہ کے بعد اہل خانہ نے اپنے گاؤں کے باہر کھیت میں بچے کو دفن کر دیا۔ دفن کرنے کے بعد اچانک بچے کی آواز قبر سے سنائی دینے لگی، جس کے بعد گھر والوں نے آنا فانا میں جلدی سے قبر سے مٹی ہٹا کر بچے کو باہر نکالا۔

بچے کی نانی مدھو دیوی کے مطابق، جیسے ہی بچہ کو قبر سے باہر نکالا گیا، اس کا دھڑکن چل رہا تھا اور وہ بچہ رو رہا تھا۔ ان کے مطابق، جیسے ہی بچہ کو  لے کر دوبارہ صدر اسپتال میں آئے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔

Loading...