آسام میں انڈین آئیڈل کی شہرت یافتہ مسلم گلوکارہ ناہید آفرین کے خلاف فتویٰ

گوہاٹی۔ انڈین جونیئر آئیڈل فیم اور بالی ووڈ سنگر ناہید آفرین کے خلاف 42 علما نے فتوی جاری کیا ہے۔

Mar 15, 2017 12:49 PM IST | Updated on: Mar 15, 2017 09:59 PM IST
آسام میں انڈین آئیڈل کی شہرت یافتہ مسلم گلوکارہ ناہید آفرین کے خلاف فتویٰ

تصویر: نیوز 18

گوہاٹی۔  انڈین آئیڈل کی شہرت یافتہ گلوکارہ ناہید آفرین کے خلاف کئی مسلم تنظیموں نے فتوی جاری کردیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اس ماہ آسام کے ہوجائی ضلع میں ہونے والے پروگرام میں اسٹیج پر گانا نہ گائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تفریحی پروگرام شریعت کے خلاف ہیں۔ ناہید کا تعلق آسام کے بسواناتھ چریالی سے ہے ۔ وہ چند سال قبل مقبول شو انڈین آئیڈل میں دوسرے نمبر پر رہی تھیں اور اس طرح ملک بھر میں مشہور ہوگئی تھیں۔ انہیں 25 مارچ کو ایک تقریب میں گانا گانے کےلئے مدعو کیا گیا ہے۔

یہ پروگرام اڈالی کے اسپورٹس کلب میں منعقد ہونا ہے۔ جہاں آس پاس کئی مساجد اور مدرسے ہیں۔ اسلامی تنظیمیں پہلے بھی اس جگہ ثقافتی پروگراموں کے خلاف مزاحمت کرتی رہی ہیں۔

ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے 46 افراد اور مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے دستخط کرکے کل ان کے خلاف فتوی جاری کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ناہید کو سرعام گانے نہیں گانے چاہئے کیونکہ گانا ، رقص اور تھیٹر جیسی تفریحات ، شریعت کے خلاف ہیں۔

فتویٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ناہید نے یہاں مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے والدین اور عوام کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے بعد آگے کا فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے بہر حال کہا کہ انہوں نے گانے گاتے رہنے کا عزم کررکھا ہے کیونکہ انہیں اس کا بے حد شوق ہے اور یہ خدا کا انعام ہے۔ دریں اثنا ریاست کے لوگ فتویٰ سے بہت ناراض ہیں اور فتوی منسوخ کرنے کا متحد ہوکر مطالبہ کررہے ہیں۔ سیاسی لیڈر ثقافتی شعبہ کی شخصیات اور عام آدمی سب ناہید کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ناہید اپنے شوق کو آگے بڑھائیں۔

Loading...

Loading...