سابق وزیرپروین امان اللہ کا انکشاف، "وزرا کو بتائے بغیراین جی اوز کو دے دیئے جاتے ہیں کام"۔

سابق وزیر پروین نے سماجی فلاح وبہبود محکمہ کے افسران پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ محکمہ کے افسران کی وجہ سے ہی این جی او سمیت دیگرمعاملوں کولے کرساری بدعنوانیاں ہورہی ہیں۔

Aug 20, 2018 06:26 PM IST | Updated on: Aug 20, 2018 06:27 PM IST
سابق وزیرپروین امان اللہ کا انکشاف،

بہار کی سابق وزیر پروین امان اللہ: فائل فوٹو

بہار میں این جی او اورسماجی فلاح وبہبود محکمہ کے طریقہ کارکو لے کراٹھ رہے سوالوں کے درمیان سابق وزیرپروین امان اللہ نے بڑا انکشاف کیا ہے۔ پروین نے سماجی فلاح وبہبود محکمہ کے افسران پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ محکمہ کے افسران کی وجہ سے ہی این جی او سمیت دیگرمعاملوں کولے کرساری بدعنوانیاں ہورہی ہیں۔

پروین نے کہا کہ ہمارے دوراقتدارمیں بھی ایسی بدعنوانیاں ہوتی تھیں۔ محکمہ اوروہاں بیٹھے افسران کی بدعنوانیوں کو جب ہم نے پکڑا تو افسران کو جواب دیتے نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ذریعہ کئی این جی او کو اصول وضوابط کے خلاف جاکربھی کام دے دیا جاتا تھا۔ سابق وزیر نے کہا کہ محکمہ کے کئی افسران اپنے وزرا تک کو کام کی جانکاری نہیں دیتے تھے۔

Loading...

انہوں نے محکمہ میں ہونے والی بدعنوانیوں کو لے کر افسران کو قصور وار ٹھہرایا اور کہا کہ سماجی فلاح وبہبود محکمہ میں ہورہی بدعنوانی کی وجہ سے ہی میں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ معلوم ہو کہ حال کے دنوں میں ٹی آئی ایس ایس کی رپورٹ کے بعد سے بہار کے شیلٹر ہوم اور این جی اوز میں ہونے والی بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

مظفر پور کے شیلٹر ہوم حادثہ سے لے کر پٹنہ کے آسرا سمیت کئی این جی اوز کی مدد سے چلنے والے شیلٹر ہوم میں بدعنوانی کی شکایت پائی گئی ہے اور اس معاملے میں کئی ملزم سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ محکمہ میں بدعنوانیاں اجاگر ہونے کے بعد بہار کی وزیر برائے سماجی فلاح وبہبود منجو ورما کو بھی استعفیٰ دینا پڑا ہے جبکہ سی بی آئی کی رڈار پر بہار کے ایک سابق وزیر دامودر راوت بھی ہیں۔

Loading...