ٹرانسجینڈر ٹیچر کا الزام، اسکول کے پرنسپلوں نے میرے پرائیویٹ اعضا کے بارے میں سوالات پوچھے

سچترا نے سال 2017 میں سیکس ری اسائنٹمنٹ سرجری کرائی اور ٹرانس ویمن بن گئی۔ تاہم، ان کی زندگی کی اصلی لڑائی اس کے بعد شروع ہوئی۔

Jun 19, 2018 01:54 PM IST | Updated on: Jun 19, 2018 01:54 PM IST
ٹرانسجینڈر ٹیچر کا الزام، اسکول کے پرنسپلوں نے میرے پرائیویٹ اعضا کے بارے میں سوالات پوچھے

سچترا کی فوٹو: فیس بک

سچترا نے سال 2017 میں سیکس ری اسائنٹمنٹ سرجری کرائی اور ٹرانس ویمن بن گئی۔ تاہم، ان کی زندگی کی اصلی لڑائی اس کے بعد شروع ہوئی۔ جیوگرافی اور انگلش میں ڈبل ایم اے اور بی ایڈ ڈگری یافتہ سچترا کولکاتہ کے ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ ٹرانسجینڈر ٹیچر سچترا نے کچھ سنگین الزامات لگائے ہیں۔ نیوز 18 کے ساتھ بات چیت میں سچترا نے بتایا، "بدقسمتی سے میں جب بھی انٹرویو میں جاتی ہوں، مجھ سے ناپسندیدہ سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ جیسے میں ایسی کیوں ہوں اور کیوں میں نے سرجری کرانے کا فیصلہ کیا۔ بمشکل وہ میری پیشہ ورانہ قابلیت کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں اور میرے سیکس چینج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سچترا نے کہا، "میں ایک معروف اسکول کے انٹرویو میں اس وقت حیران ہو گئی جب پوچھا گیا کہ کیا میں دودھ پلا سکتی ہوں، کیا میں حاملہ ہو سکتی ہوں اور کیا میرے پستان اصلی ہیں۔ میں نے بہت زیادہ ذلت محسوس کیا۔ خوش قسمتی سے میرے موجودہ اسکول میں جہاں میں پڑھاتی ہوں وہاں کا اسٹاف سپورٹنگ ہے۔ میں ہمیشہ سے محسوس کرتی ہوں کہ میں ان کے خاندان کا حصہ ہوں۔

Loading...

سچترا نے اب مغربی بنگال انسانی حقوق کمیشن کو اس معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کرنے کے لئے ایک شکایتی خط لکھا ہے۔ سچترا نے کمیشن کو بھیجے خط میں لکھا ہے، 'ٹرانس ویمن ہونے کی وجہ سے ہر قدم پر مجھ سے امتیازی سلوک کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود بہت سے نجی اسکول اب بھی مجھے اسکول ٹیچر کے طور پر کام دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ میرے پاس تدریس کی کافی اہلیت ہے اور 10 سال کا تجربہ ہے۔ انٹرویو کے دوران پینل کے ارکان میری نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے میرے اعضا کے بارے میں پوچھا۔ یہ مجھے محسوس کراتا ہے کہ ٹرانسجینڈر لوگوں کے پاس کیرئیر کو آگے بڑھانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ لوگوں کی ذہنیت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس طرح کے بھید بھاو کے خلاف ضروری تادیبی کارروائی کریں گے۔ "

سچترا نے کہا، "اگر ضرورت پڑی تو میں قانون کا راستہ اختیار کروں گی۔" سال 2014 میں سپریم کورٹ نے زمرہ بنا کر رسمی طور پر ٹرانسجینڈر کو منظوری دی تھی۔

Loading...