دنیا کی بھیڑ میں تنہا ہوئیں اروم شرمیلا ، خاندان ، دوست اور پڑوسی سب نے موڑا منہ

اروم شرمیلا کے خاندان ، قریبی دوست اور یہاں تک کہ ان کے پڑوسی کو اس آئرن لیڈی سے ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں ، جنہوں نے زندگی کے 16 برس کھانا پانی کے بغیر لوگوں کی بھلائی کی کوشش میں گزار دیئے

Aug 12, 2016 09:47 AM IST | Updated on: Aug 12, 2016 09:47 AM IST
دنیا کی بھیڑ میں تنہا ہوئیں اروم شرمیلا ، خاندان ، دوست اور پڑوسی سب نے موڑا منہ

امپھال : منی پور کے جن لوگوں کے لئے آئرن لیڈی اروم چانو شرمیلا 16 سال تک بھوک ہڑتال پر رہیں ، ان ہی لوگوں نے ایسے وقت میں ان سے منہ موڑ لیا ، جب انہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔  اپنی ریاست میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان وہ تنہا ہو گئیں ۔ ان کے خاندان ، قریبی دوست اور یہاں تک کہ ان کے پڑوسی کو اس آئرن لیڈی سے ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں ، جنہوں نے زندگی کے 16 برس کھانا پانی کے بغیر لوگوں کی بھلائی کی کوشش میں گزار دیئے ۔

فی الحال وہ ایک بار پھر اسی اسپتال میں لوٹ گئی ہیں جو بھوک ہڑتال کے دوران 16 سال تک ان کا گھر رہا ۔ لیکن اس مرتبہ ان کے اسپتال واپس جانے کی وجہ بھوک ہڑتال نہیں ، بلکہ تنہائی اور سر پر اپنی چھت کا نہ ہونا ہے ۔  اروم کے اپنے خاندان نے بھی ان سے ناطہ توڑ لیا ۔ جب کچھ چیریٹی والوں نے انہیں اپنے گھر میں کچھ وقت کے لئے پناہ دی ، تو اس کی بھی مقامی لوگوں نے مخالفت کی ۔

Loading...

امپھال مغرب کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی طرف سے منگل کی شام رہا کئے جانے کے بعد انہیں سماجی کارکن تھيام سریش کے گھر لے جایا گیا ۔ سریش سابق ڈاکٹر ہیں ، جنہوں نے مسلح فورس ایکٹ 1958 کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے ۔ مقامی خواتین نے ان سے صاف کہہ دیا کہ وہ اس جگہ پر نہیں رہ سکتیں ۔ اس کے بعد وہ دو اور جگہوں پر گئیں ، وہاں بھی انہیں لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔

اس کے بعد وہ اپنے پولیس محافظوں کے ساتھ اسكان مندر گئیں ۔ وہاں سے ایک پولیس تھانے گئیں اور پھر لوٹ کر ایک مرتبہ پھر جے این انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچ گئیں ، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے انمول 16 سال گزارے تھے ۔ اروم شرمیلا منی پور کی وزیر اعلی بننا چاہتی ہیں ، تاکہ ریاست سے خصوصی قانون کا سایہ ہٹا سکیں ۔ انہوں نے وزیر اعلی اوكرام ابوبی سنگھ کے خلاف تھوبل حلقہ سے اگلا اسمبلی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ ان کے فیصلے پر کانگریس کے ایک لیڈر نے کہا کہ یہ شرمیلا کی سوچ ہے ۔

اخبار ہوئین لنپاو کے مدیر ہیمنت نگومبا نے کہا کہ اروم نے 26 جولائی کو کہا تھا کہ وہ كھراری حلقہ سے الیکشن لڑیں گی ۔ اب وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ تھوبل سے الیکشن لڑیں گی ۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ سیاست پیسے اور طاقت کے بل پر کی جاتی ہے ۔ یاد رہے کہ ایسی ہی بات دہلی میں اروند کیجریوال کے لئے کہی جا رہی تھی ۔ اب دی سیو شرمیلا گروپ  اور دیگر لوگوں نے ان سے دوری بنا لی ہے ۔ عدالت کے احاطے میں منگل کو انہیں تسلی دینے والا بھی کوئی نہیں تھا ۔

اروم اس بات سے پریشان ہیں کہ لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے ، شادی کرنے اور سیاست میں آنے کے ان کے فیصلے کو غلط سمجھا ۔ تمام قومی و بین الاقوامی پریس امپھال چھوڑ چکے ہیں ۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ کہاں جائیں ، لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ طویل وقت تک اسپتال میں نہیں رہ سکتیں ۔ اب وہ اپنی غلطیوں کے بارے میں بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج انتخابات جیتنا ہے جو ان کے لئے اتنا آسان نہیں ہے، خاص طور پر وزیر اعلی بننے کے لئے ۔

خاتون کارکنان ایک این آر آئی ہندوستانی سے شادی کرنے کے اروم کے فیصلے کے خلاف ہیں ۔  ان کے تئیں یکجہتی کے اظہار کے لئے بھوک ہڑتال کرنے والی کارکنان اب کہہ رہی ہیں کہ جیل میں ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ دے کر ان کا برین واش کر دیا گیا ۔

بھوک ہڑتال کے دوران حکومت ان کی ناک میں ایک نلی لگا کر کھانے کی فراہمی کے لئے ہر ماہ 80 ہزار روپے بھیجتی رہی تھی ۔ لیکن اب ان کے پاس کھانے تک کے لئے پیسے نہیں ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ کون ان کی حمایت کرے گا ؟ اروم نے سال 2000 میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 10 شہریوں کے مارے جانے کے بعد بھوک ہڑتال شروع کی تھی اور پوری دنیا میں ان کی ایک الگ شناخت بن گئی ۔ لیکن بدھ کو ہڑتال توڑ نے کے بعد اروم شرمیلا پہلے سے زیادہ تنہا ہو گئی ہیں ۔

Loading...