فوج کی تعیناتی پر بھڑكیں ممتا بنرجی، پوچھا کیا فوجی بغاوت کی جا رہی ہے؟

ممتا بنرجی نے گزشتہ رات سیکرٹریٹ میں ہی گزاری۔ ممتا کی شکایت مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں فوج کی موجودگی کو لے کر ہے۔

Dec 02, 2016 09:43 AM IST | Updated on: Dec 02, 2016 09:50 AM IST
فوج کی تعیناتی پر بھڑكیں ممتا بنرجی، پوچھا کیا فوجی بغاوت کی جا رہی ہے؟

گیٹی امیجیز

نئی دہلی۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی فوج کی ریاست میں موجودگی کے معاملے پر اب اپوزیشن کو متحد کرنے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ مغربی بنگال میں فوج کی تعیناتی کے مسئلے کو ٹی ایم سی جمعہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھائے گی۔ خبریہ بھی ہے کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور احمد پٹیل نے رات میں ہی فون کر کے ممتا بنرجی سے بات کی ہے۔

ممتا نے سیکرٹریٹ میں گزاری رات

Loading...

ممتا بنرجی نے گزشتہ رات سیکرٹریٹ میں ہی گزاری۔ ممتا کی شکایت مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں فوج کی موجودگی کو لے کر ہے۔ مشرقی فوج کمان کی ٹکڑیاں بنگال کے کئی اضلاع میں ٹول ناكوں پر جمعرات کو موجود رہیں۔ تاہم ممتا کے اعتراض کے بعد رات کو فوج ٹول ناکوں سے ہٹ گئی، لیکن ممتا سیکرٹریٹ سے باہر نہیں نکلیں۔

ممتا نے کہا، 'ان کا ارادہ سیاسی، غیر آئینی، انتقام کا جذبہ، غیر اخلاقی، غیر جمہوری ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک فوج کو اس سیکرٹریٹ کے سامنے سے نہیں ہٹایا جاتا ہے، میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ میں آج رات یہاں ٹھہروں گی۔ کیا اس ملک میں فوج کی طرف سے بغاوت کی جا رہی ہے؟

سیکرٹریٹ کے ٹھیک سامنے ودیاساگر کی طرف جانے والے روڈ پر بنے ٹول پر فوج کے جوان شاہراہ سے منسلک معلومات اکٹھا کر رہے تھے، لیکن ممتا بنرجی کا الزام یہ تھا کہ شاہراہ پر معلومات جٹانا مقصد نہیں تھا بلکہ مرکز کی بنگال کی حکومت کو پریشان کرنے کی سازش ہے۔

فوج نے دی صفائی

ممتا بنرجی کے دعووں پر صفائی دینے میں فوج نے بھی دیر نہیں کی۔ ممتا کے مطابق فوج کی کارروائی کا مقصد سیاسی ہے، لیکن فوج کا کہنا ہے کہ یہ ہر سال ہونے والی معمول کی کارروائی ہے۔ فوج ریاستوں میں اس طرح کے آپریشن سے شاہراہ سے منسلک معلومات جٹاتی ہے۔ ممتا نے کہا کہ ریاستی حکومت کو فوج کی کارروائی کی معلومات بھی نہیں تھی، لیکن فوج نے کہہ دیا کہ پولس کو مکمل معلومات دی گئی تھی۔ ریاستی پولیس کے کہنے پر ہی کارروائی کی تاریخ 1 دسمبر مقرر کی گئی تھی۔

ممتا نے مرکز پر بولا حملہ

فوج کی صفائی کے بعد بھی ممتا کا غصہ تھما نہیں۔ انہوں نے ایسٹرن کمانڈ کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، 'ہمارا آپ کے تئیں احترام ہے لیکن برائے مہربانی لوگوں کو الجھائیں نا۔

ممتا نے کہا کہ، وہ (فوج) کیوں یہاں کھڑے ہیں۔ پولیس کمشنر نے انہیں جانے کو کہا، لیکن وہ اب بھی یہاں کھڑے ہیں۔ میں پوری صورتحال کو قریب سے دیکھ رہی ہوں۔ میں اپنے لوگوں کی سرپرست ہوں اور جب تک فوج یہاں کھڑی ہے، میں سیکرٹریٹ سے نہیں جا سکتی۔ ممتا نے دعوی کیا کہ ریاستی حکومت کو اطلاع دیے بغیر یہاں فوج تعینات کی گئی ہے۔ یہ غیر متوقع ہے اور ایک بہت سنگین معاملہ ہے۔

 

Loading...