فلور ٹیسٹ سے پہلے برین کی بڑی کامیابی، منی پور میں 139 دن پرانی معاشی ناکہ بندی ختم

امپھال۔ منی پور میں یونائیٹڈ ناگا کونسل ( یو این سی) کی جانب سے گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے جاری معاشی ناکہ بندی کو کل آدھی رات سے ختم کردیا گیا ہے۔

Mar 20, 2017 11:40 AM IST | Updated on: Mar 20, 2017 11:41 AM IST
فلور ٹیسٹ سے پہلے برین کی بڑی کامیابی، منی پور میں 139 دن پرانی معاشی ناکہ بندی ختم

امپھال۔  منی پور میں یونائیٹڈ ناگا کونسل ( یو این سی) کی جانب سے گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے جاری معاشی ناکہ بندی کو کل آدھی رات سے ختم کردیا گیا ہے۔ ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد قومی شاہراہ پر بڑی تعداد میں ضروری اشیاء سے لدی گاڑیوں کو امپھال کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس درمیان گورنر نجمہ ہیبت اللہ نے حکومت کی جانب سے ناکہ بندی کو ختم کرنے کی کوشش کی تعریف کی ہے۔ وزیر اعلی این بیرین سنگھ نے کہا کہ انہوں نے حلف لینے کے 24 گھنٹے کے اندر اقتصادی ناکہ بندی ہٹانے سے متعلق اپنے وعدے کو پورا کیا ہے۔ اس سلسلے میں کل ضلع سناپتي میں ایک معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔

معاہدے کے مطابق گذشتہ 25 نومبر کو گرفتار کئے گئے یو این سی کے لیڈر گیدون کومائی اور اسٹیفن لیمكانگ کو غیر مشروط رہا کیا جائے گا۔ مرکزی وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری کی صدارت میں ضلع سیناپتی میں مرکزی حکومت، منی پور حکومت اور یو این سی کے درمیان سہ فریقی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے کیا گیا۔ یہ معاشی ناکہ بندی ریاست میں کئی نئے اضلاع بنائے جانے کی مخالفت میں کی گئی تھی اور بات چیت کے ذریعے اس کو حل کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب رہی۔ معاہدے پر منی پور حکومت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے داخلہ ڈاکٹر سریش بابو، یو این سی کے سکریٹری جنرل ایس کے ملان، کے راج کمار، منی پور میں آل ناگا اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن کے صدر کے رادھاكمار، ناگا خواتین یونین کی صدر ایل ایم تھبتھا اور مرکزی وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری ستیندر گرگ نے دستخط کئے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال یکم نومبر سے یو این سی کی جانب سے اقتصادی ناکہ بندی کے بعد گزشتہ 31 اکتوبر کی درمیانی رات سے ہی ہائی وے کو بند کر دیا گیا تھا جس سے یہاں کے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ریاست میں حال ہی میں اختتام پذیر اسمبلی انتخابات میں یو این سی نے ناگا پیپلز فرنٹ ( این پی ایف) کو حمایت دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ اب نئی حکومت کو حمایت دے رہی ہے۔ این ایل ایف کے ایک رکن اسمبلی کو برین حکومت میں کابینہ وزیر بنایا گیا ہے۔

Loading...

Loading...