اروم شرمیلا نے 16 سال بعد توڑی بھوک ہڑتال ، کہا : بننا چاہتی ہوں منی پور کی وزیر اعلی

آج انہیں عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے بھی پیش کیا گیا اور بھوک ہڑتال توڑتے ہی انہیں عدالتی حراست سے رہا کر دیا گیا

Aug 09, 2016 04:51 PM IST | Updated on: Aug 09, 2016 04:56 PM IST
اروم شرمیلا نے 16 سال بعد توڑی بھوک ہڑتال ، کہا : بننا چاہتی ہوں منی پور کی وزیر اعلی

امپھال : 16 سال کا طویل انتظار آج ختم ہو گیا۔ اروم شرمیلا چانو نے آج افسپا کے خلاف اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ 5 نومبر 2000 وہ آخری دن تھا ، جب اروم نے کھانے کا ذائقہ چکھا تھا۔ امپھال کے مالوم گاؤں میں 10 لوگوں کے مارے جانے کے بعد اروم نے اس وقت تک کھانا نہ کھانے کی قسم کھائی تھی ، جب تک کہ یہ قانون ختم نہیں کر دیا جاتا۔

شرمیلا نے آج مقامی عدالت میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی ۔ آج انہیں عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے بھی پیش کیا گیا اور بھوک ہڑتال توڑتے ہی انہیں عدالتی حراست سے رہا کر دیا گیا۔

بھوک ہڑتال توڑنے کے فورا بعد شرمیلا نے کہا کہ میں منی پور کی وزیر اعلی بننا چاہتی ہوں ، تاکہ تبدیلی آ سکے۔ میری تعلیم بہت کم ہے ، لیکن میں مثبت تبدیلی کے لئے کام کروں گی۔ میرا پہلا کام ہوگا افسپا کو ہٹا نا ۔ میں اپنی ماں کو تبھی دیكھوںگي ، جب مجھے منزل مل جائے گی۔ مجھے کسی طرح کی سیکورٹی بھی نہیں چاہئے۔

خیال رہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ نو اگست کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گی اور منی پور میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ شادی بھی کرنے جا رہی ہیں، جس کے بعد ایک تنظیم نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

Loading...

واضح رہے کہ 44 سالہ اروم شرمیلا نے گزشتہ 16 سالوں سے نہ کچھ کھایا ہے اور نہ پیا ہے۔ انہیں ناک سے زبردستی غذا دی جا رہی تھی۔ اروم نے نومبر 2000 میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 10 شہریوں کی موت کے بعد افسپا ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے تین دن بعد ہی انہیں منی پور حکومت نے خودکشی کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

Loading...