مسلم پرسنل لا اجلاس: نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی نیت میں فتور ہے: مولانا ارشد مدنی

کلکتہ ۔ مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمد ارشد مدنی نے کہا کہ نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی نیت صحیح نہیں ہے۔

Nov 20, 2016 09:10 PM IST | Updated on: Nov 20, 2016 09:10 PM IST
مسلم پرسنل لا اجلاس: نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی نیت میں فتور ہے: مولانا ارشد مدنی

فائل فوٹو

کلکتہ ۔ مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمد ارشد مدنی نے کہا کہ نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی نیت صحیح نہیں ہے اور وہ پرسنل لا اور مذہبی آزادی پر حملہ کرکے ملک کی یکجہتی و سالمیت کو نقصان پہنچاکر اپنے اقتدار کو طویل دینا چاہتے ہیں مگر ملک کے مسلمان کو اپنے ملک سے محبت ہے اور اس نے ملک کی آزادی کیلئے جان کی بازی لگائی ہے اور اس وقت غلامی کے خلاف آواز بلند کی او ر جد و جہد کی جب کانگریس کا وجود تک نہیں تھا ۔اس لیے مسلمان فسطائی قوتوں کو ملک کو برباد کرنے نہیں دیں گے ۔ کلکتہ میں منعقدہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید محمد ارشد مدنی نے کہا کہ جب ملک میں گھر واپسی ، مسلمانوں سے ووٹ کا حق محروم کردینے ، گؤ کشی کے نام پر مسلمانوں پر حملے ہورہے تھے اور لوجہاد کا مسئلہ اٹھایا جارہا تھا اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی خاموش تھے مگر وہ یوپی میں مسلم عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ مسلم عورتوں پر ظلم نہیں ہونے دیں گے ۔

مولانا نے کہا کہ مودی کی نیت میں فتور ہے ۔انہوں نے کہ ہندوستان میں مسلمان 1300سو سال سے ہیں اور انہیں مذہبی آزادی حاصل تھی۔مسلمانوں کو مذہبی آزادی اس وقت بھی حاصل تھی جب ملک میں مسلم حکمراں تھے۔ جب انگریز آئے اس وقت بھی مسلم پرسنل لا محفوظ تھا اور ملک آزاد ہوااس وقت بھی ہندوستان کے دستور اور آئین نے مذہبی آزادی کی ضمانت دی  ۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہیں گی مگر مسلم پرسنل لا محفوظ رہے گا اور ہم اپنی مذہبی آزادی سے دست بردار نہیں ہوسکتے ہیں ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ لا کمیشن کے سوالوں کے بائیکاٹ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمان مسلم پرسنل لا بور ڈ کے ساتھ ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہے ۔

مولانا نے کہا کہ ہم لا کمیشن کے سوالوں کے بائیکاٹ کی حمایت اس لیے کررہے ہیں کہ لا کمیشن کے مقاصد اچھے نہیں ہیں کیوں کہ اس نے مسلم پرسنل لا سے متعلق سوال مسلمانوں اور مسلم خواتین سے پوچھنے کے بجائے  ہندوستانی عوام سے پوچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی تعداد20فیصد کے قریب ہے ۔ظاہر ہے کہ 80فیصد کا تعلق اکثریتی طبقے سے ہے ۔مولانا نے کہا کہ اگر لا کمیشن مسلمانوں سے سوال پوچھتا تو مسلمانوں کی 99فیصد آبادی مسلم پرسنل لا کے حق میں ہے وہ شریعت میں مداخلت کے حق میں نہیں ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں سے جذبات ، جوش و خروش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت پر یقین رکھیں ۔ بورڈ قانونی لڑائی کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کا تحفظ کرے گا اور ہمیں یقین ہے کہ ملک کی عدالتیں و سپریم کورٹ مسلمانوں کے احساسات و جذبات، ملک کے دستور و آئین کی پاسداری کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے خلاف فیصلہ نہیں دے گی۔ اس سے قبل مسلم پرسنل لا بورڈ کی تین روزہ میٹنگ میں مختلف ایشوز و ایجنڈے پر بات چیت کی گئی جس میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق اور تعدد ازدواج پر سوموٹو ایکشن کا ایجنڈا سب سے اہم ایشو تھا ۔

Loading...

aimpb kolkata

بورڈ نے تفصیل کے ساتھ شادی، طلاق ،میراث ، متبنیٰ ودیگر عائلی معاملات میں شرعی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ شرعی قوانین چوں کہ قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں اور یہ قوانین الہی ہیں اس لیے ان شرعی قوانین میں کسی بھی شخص یا پھر اتھارٹی کوکسی قسم کی تبدیلی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔

Loading...