مسلم پرسنل لا بورڈ کے کولکاتہ اجلاس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے: مولانا ولی رحمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والے تین روزہ اجلاس میں ملک بھرسے ہندوستانی مسلمانوں کی مختلف تنظیموں و مسالک کے نمائندے جو بورڈ کے ممبر ہیں شریک ہورہے ہیں۔

Nov 18, 2016 09:09 AM IST | Updated on: Nov 18, 2016 09:09 AM IST
مسلم پرسنل لا بورڈ کے کولکاتہ اجلاس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے: مولانا ولی رحمانی

کلکتہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے کلکتہ اجلاس سے مثبت نتائج سامنے آنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والے تین روزہ اجلاس میں ملک بھرسے ہندوستانی مسلمانوں کی مختلف تنظیموں و مسالک کے نمائندے جو بورڈ کے ممبر ہیں شریک ہورہے ہیں اور اجلاس کا ملک بھر میں مثبت پیغام جائے گا۔ مولاناولی رحمانی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے جو مسلم پرسنل لا کے تحفظ کیلئے کوشش کرتی ہے اور یہ ہندوستانی مسلمانوں کی مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مسالک و طبقات کے نمائندے شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بورڈمیں 30فیصد خواتین ممبران ہیں جو پوری قوت کے ساتھ اپنی بات بورڈ کے سامنے رکھتی ہیں ۔ مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہا کہ تین روزہ کلکتہ اجلاس میں گزشتہ تین سالہ کارکردگی اور آئندہ کیلئے حکمت عملی بنائے جائے گی۔

مولانا نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین حالات سے گزررہا ہے ۔مولانا نے اشاروں میں کرنسی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  درجنوں بحران ہے جس سےاس وقت ملک گزررہا ہے ۔ملک کے آئین کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔آئین میں مذہبی آزادی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر مودی کی قیادت والی حکومت مذہبی مداخلت کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی پر اگر حملہ کیا گیا تو ہندوستان کا اتحاد منتشر ہوجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہوں گے ملک کے تمام طبقات اس سے متاثر ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ سکھ، عیسائی، جینی اور قبائلیوں کی جانب سے اس کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے ۔ مولانا ولی رحمانی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اب تک کسی سیاسی جماعت نے انہیں یکساں سول کوڈ کے معاملے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان اس ملک کے شہری ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہےکہ وہ اپنے پرسنل لا پر عمل کریں۔انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مودی حکومت نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اس مسئلے کو زور وشور سے اٹھایا ہے اور جان بوجھ کر ہوادیا جا رہا ہے ۔یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بات تو اس نے اپنے سیاسی منشور میں بھی کیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں اس سے بڑے مسائل نہیں ہیں جس پر حکومتوں کو توجہ دینی چاہیے۔مگر ملک کی بدنصیبی ہے کہ ان مسائل کو نظرانداز کرکے لوگوں کوآپس میں الجھایا جارہا ہے ۔

خیال رہے کہ آج سے مسلم پرسنل لا بورڈ کی سہ روزہ میٹنگ کی شروعات ہورہی ہے ۔اس میٹنگ میں بورڈ کے نئے عہدیداران کا انتخاب ہونا ہے ۔اس کے علاوہ کئی اہم تجاویز جس میں سپریم کورٹ میں طلاق کے مسئلے پر پیش رفت ، حکومت کے حلف نامہ پر غور و فکر کیا جائے گا۔

Loading...

Loading...