معلق اسمبلی کی صورت میں کیا کانگریس کو چھوٹی پارٹیوں کا سہارا لینا پڑے گا؟

میگھالیہ میں ووٹروں نے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ دے کر حکومت بنانے کی کنجی چھوٹی پارٹیوں کے ہاتھوں میں دے دی ہے۔

Mar 03, 2018 09:23 PM IST | Updated on: Mar 03, 2018 09:37 PM IST
معلق اسمبلی کی صورت میں کیا کانگریس کو چھوٹی پارٹیوں کا سہارا لینا پڑے گا؟

راہل گاندھی ۔ فائل فوٹو

شیلانگ۔میگھالیہ میں ووٹروں نے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ دے کر حکومت بنانے کی کنجی چھوٹی پارٹیوں کے ہاتھوں میں دے دی ہے۔60 سیٹوں والی اسمبلی میں 59 سیٹوں پر انتخابات ہوئے تھے اور پچھلے دس برسوں سے ریاست میں حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی 21 سیٹیں جیت کرسب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن واضح اکثریت حاصل کرنے میں ابھی اسے 9 سیٹوں کی اور ضرورت پڑے گی۔

معلق اسمبلی کی صورت میں کانگریس کو چھوٹی پارٹیوں کا سہارا لینا پڑے گا اور اس سلسلہ میں اسے کافی احتیاط سے کام لینا پڑے گا۔ پچھلے سال گوا اور منی پور میں بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی لیکن بی جے پی نے تیزی دکھاتے ہوئے چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنالی تھی اور کانگریس دیکھتی رہ گئی تھی۔

کانگریس اگر چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ نہیں لے پائی تو اس کے ہاتھ سے ایک اور ریاست چھوٹ سکتی ہے۔

Loading...

نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) 19 سیٹیں حاصل کرکے دوسرے نمبر پرہے۔ اسمبلی انتخابات میں پوری طاقت جھونکنے کے باوجود بی جے پی کو صرف دو سیٹیں مل پائی ہیں۔ اس انتخابات میں بی جے پی اور این پی پی ایک دوسرے کے مخالف تھیں جبکہ منی پور میں دونوں حلیف ہیں۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے میگھالیہ میں بھی دونوں اب ایک ساتھ آسکتی ہیں۔

یونائٹیڈ ڈیموکریٹک پارٹی کو صرف چھ سیٹیں ملیں ہیں اور چار سیٹیں پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے حصہ میں آئی ہیں۔ہل اسٹیٹ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ایس پی ڈی) دو سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جب کہ ہائی نیوٹریپ نیشنل اویکنگ مومنٹ (کے ایچ این اے ایم) اور راشٹروادی کانگریس پارٹی نے ایک ایک سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ تین سیٹیں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔وزیر اعلی مکل سنگما دونوں اسمبلی سیٹوں۔امبتی اور سانگسوک سے جیت درج کرنے میں کامیاب رہے ۔

Loading...