ملی الامین گرلس کالج کے اقلیتی کردارپر ممتا حکومت کا مبہم موقف ، مسلم حلقوں میں شدید ناراضگی

کلکتہ۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد کلکتہ میں مسلمانوں کی جانب سے قائم ہونے والا پہلا تعلیمی ادارہ ملی الامین کالج (گرلس) انتخابی موسم میں اپنے اقلیتی کردار کے حوالے سے موضوع بحث ہے ۔

Apr 29, 2016 09:34 AM IST | Updated on: Apr 29, 2016 09:42 AM IST
ملی الامین گرلس کالج کے اقلیتی کردارپر ممتا حکومت کا مبہم موقف ، مسلم حلقوں میں شدید ناراضگی

کلکتہ۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد کلکتہ میں مسلمانوں کی جانب سے قائم ہونے والا پہلا تعلیمی ادارہ ملی الامین کالج (گرلس) انتخابی موسم میں اپنے اقلیتی کردار کے حوالے سے موضوع بحث ہے ۔ کالج ورکنگ کی کمیٹی میں ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما سلطان احمد کے صدر ہونے کے باوجود عدالت میں سماعت کے دوران مغربی بنگال حکومت کے مبہم اور کالج مخالف موقف کی وجہ سے ملی الامین کالج کا اقلیتی کردار ہی خطرے میں آگیا ہے ۔گرچہ یک رکنی بنچ کے فیصلہ پر ڈویژن بنچ نے روگ لگادی ہے اور اب یہ معاملہ ڈویژن بنچ میں زیر سماعت ہے۔ ممتا بنرجی کے مخالفین اس کو انتخابی موضوع بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

 خیال رہے کہ کلکتہ شہر کے ایک بڑے مسلم علاقے بالخصوص کالج جس علاقے میں واقع ہے وہاں 30اپریل کو پولنگ ہونی ہے ۔ ملی الامین کالج پر عدالت کا فیصلہ انتخابی نتائج پر کس قدر اثر انداز ہوگا یہ مسلم ووٹروں کی فہم و فراست پر منحصر ہے، وہ کس قدر اپنے حقیقی مسائل کے تئیں بیدارہیں یا پھر انتخابی نعرے بازی، شور شرابے ، ہنگامہ آرائیوں اور جذباتی نعروں میں اپنے حقیقی مسائل سے چشم پوشی کرلی ہے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ ملی الامین کالج کے مسئلہ نے مسلمانوں کے سنجیدہ و تعلیم یافتہ طبقے کوبے چین کردیا ہے۔دباؤ، خوف و ہراس کے ماحول میں بھی اب کچھ آوازیں حکومت کے اس رویہ کے خلاف بلند ہونے لگی ہیں کہ اقلیت نوازی کی ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود مسلمانوں کے ادارے کے خلاف اس طرح کا موقف کیوں اختیار کیا گیا ہے ؟

واضح رہے کہ ملی الامین کالج کو 1992کلکتہ کے مسلمانوں نے چندہ کرکے قائم کیا ہے ، تاکہ وہ اپنی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرسکیں ۔اس کالج کا سنگ بنیاد عالم اسلام کے مشہور عالم دین مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی نے رکھی تھی ۔ کالج کے ابتدائی پروگرام میں سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو بھی شرکت کرچکے ہیں ،مگر کالج کی حالت نہ بایاں محاذ کے دور حکومت میں بہتر ہوئی اور نہ ’اقلیت نواز‘ کہی جانے والی ممتا بنرجی کے پانچ سالہ دور حکومت میں کالج کو انصاف مل سکا ہے بلکہ معاملہ این جا ں رسیدکہ کالج کا اقلیتی کردار ہی خطرے میں آگیا ہے ۔بلکہ اب یہ خطرہ منڈلانے لگا ہے کہ مولانا آزاد کالج اور سخاوت میموریل ہائی اسکول و دیگر اداروں کی طرح اب یہ ادارہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا ۔

کلکتہ ہائی کورٹ کی جسٹس دیبانگشو باسک کی یک رکنی بنچ نے تین استانیوں کی برطرفی کے معاملے کے فیصلے میں ایک طرف جہاں ان استانیوں کی برطرفی کو غیر قانونی بتاتے ہوئے کالج انتظامیہ کوان کے بقایاجات کی ادائیگی کا حکم دیا وہیں چوں کہ ان تینوں استانیوں کیالج کے فیصلہ کو یہ کہہ کر چیلنج کیا تھا ملی الامین کالج کو نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن کی جانب سے جو اقلیتی کردار کا درجہ ملا ہے ۔وہ غیر قانونی ہے۔

Loading...

milli alameen

بایاں محاذ حکومت کے بر خلاف ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کے وکلاء جوتوش مجمدار اور پناکی ڈھولے نے عدالت میں موقف پیش کیا ہے کہ 13اکتوبر 2008نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن نے کالج کو اقلیتی کردار کا درجہ دیا ہے وہ غیر قانونی ہے ، اور قانون کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے اس لیے کالج اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ حکومت کا موقف ہی کالج کے خلاف چلاگیا اور یک رکنی بنچ نے اسی کو بنیاد کر استانیوں کے حق میں فیصلہ سنادیا ۔فیصلہ آنے کے بعد کالج انتظامیہ کی صدارت سے ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا ہے ،گرچہ استعفیٰ اب تک قبول نہیں ہوا ہے،کمیٹی عدالت کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ تک جانے کو تیار ہے۔

mamta

مگر کالج انتظامیہ کے پر عزم حوصلہ اور کمیٹی کی صدارت سے سلطان احمد کے استعفیٰ کے باوجود کئی سوالات ایسے ہیں جس کی جوابدہی سے کالج انتظامیہ نہیں بچ سکتی ہے ۔آخر کمیٹی کے صدر سلطان احمد جس پارٹی سے ہیں اسی حکومت نے ملی الامین کالج کے خلاف یہ موقف کیوں اختیار کیا ؟ جب کہ سابقہ بایاں محاذ حکومت ملی الامین کالج کے اقلیتی کردار کو تسلیم کرلیا تھا ؟ سلطان احمد نے ان صورت حال سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو آگاہ کیا یا نہیں ؟ اس کیلئے سیاسی سطح پر کوشش کیوں نہیں کی گئی ؟ ایک سال تک پورے معاملے کو دبائے کیوں رکھا گیا ؟

کالج انتظامیہ کے سابق صدر محمد نظام الدین جو سی پی ایم کے سابق ممبر اسمبلی ہیں اور کالج تاسیسی ممبران میں شامل ہیں ۔نے یواین آئی کو بتایا کہ کالج کو اکتوبر 2008کو ہی اقلیتی کردار کا درجہ نیشنل کمیشن فار مائناریٹی انسٹی ٹیوشن سے مل گیا تھا۔

کالج نے مغربی بنگال کے اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کے پاس درخواست کی کہ ہمیں دہلی سے اقلیتی کردار کا درجہ حاصل ہوگیا ہے ۔محکمہ اعلیٰ تعلیم نے اس پراعتراض کرنے کے بجائے اس معاملے کومحکمہ مدرسہ تعلیم و اقلیتی امور کے پاس بھیج دیا جہاں سے واضح طور پر کہا گیا کہ اقلیتی کردار پر مغربی بنگال حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ مائناریٹی ایجوکیشن کا فیصلہ ہی صحیح ہے ۔محمد نظام الدین نے بتایا کہ اس کے بعد ہم نے اقلیتی کردار کا جو حق حاصل ہوا تھا اس کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کی قواعد شروع کردی۔انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ قوانین اور ضابطے کی معلومات کی کمی اور لال فیتاشاہی کے معاندانہ رویہ کی وجہ سے کارروائی کا عمل سست روی سے آگے بڑھتا رہا ۔مگر 2010کے اخیر تک کلکتہ یونیورسٹی جہاں سے یہ کالج منظور شدہ ہے نے ہمیں اقلیتی کردار کے تناظر میں ایک نیا آئین اور ضوابط سازی کی ہدایت دی ۔ہم نے پھر نیا آئین بنایا جسے کلکتہ یونیورسٹی کی سنڈیکٹ نے منظوری دیتے ہوئے کالج انتظامیہ کو اساتذہ ، لائبرین اور دیگر عملہ کو بحال کرنے کا اختیار دیدیا ،بس اب حکومت کے محکمہ اعلیٰ تعلیم سے اس کو منظوری ملی تھی ۔

سابق ممبر اسمبلی محمد نظام الدین کے مطابق یہ تمام کارروائی ہوتے ہوتے 2011آگیا اور اس سال ہی حکومت بدل گئی ۔اس کے بعد ہی مسلم اداروں میں ایک نئی سیاست کا آغاز ہوا ، کالج انتظامیہ میں نئی کمیٹی آئی ، خاص پارٹی کے لوگوں کا دبدبہ قائم ہوتا چلا گیا ۔مگر اس کا فائدہ کالج کو نہیں ملا ۔

Loading...