کولکاتہ اجلاس: مولانا رابع حسنی ندوی ایک بار پھر بورڈ کے صدر منتخب، بورڈ کی مسلمانوں سے جذبات سے نہیں عقل و خرد سے کام لینے کی اپیل

کلکتہ ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بار پھر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کو اپنا صدر منتخب کرلیا ہے ۔

Nov 19, 2016 07:43 PM IST | Updated on: Nov 19, 2016 07:43 PM IST
کولکاتہ اجلاس: مولانا رابع حسنی ندوی ایک بار پھر بورڈ کے صدر منتخب، بورڈ کی مسلمانوں سے جذبات سے نہیں عقل و خرد سے کام لینے کی اپیل

کولکاتہ ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بار پھر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کو اپنا صدر منتخب کرلیا ہے ۔اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلمانوں کوحکمت اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے اور مسلک ومشرب سے اوپر اٹھ کراتحاد امت پر توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں روادری اور بھائی چارہ کا فروغ ،مذہب کے تئیں پیدا غلط فہمیوں کے ازالہ اور تفہیم شریعت کیلئے جہد مسلسل ناگزیر ضرورت ہے اور یہ مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے 25ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کہا کہ اسلام رواداری اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام اپنا مذہب کسی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پرجبراً تھوپنے کا قائل نہیں ہے اور جن ملکوں میں اسلامی حکومتیں ہیں وہاں بھی اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔ چناں چہ اسلام بھی دوسروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ انہیں اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی آزادی دی جائے ۔ اسلام کے مذہبی قوانین کویہ خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ وہ آسمانی کتاب قرآن مجید اور آخری نبی کوملنے والی وحی کے ذریعہ مقرر کردہ اورابدی ہیں۔ وہ آسمانی ہدایات کے تحت ہونے کی بناپرناقابل تغیراورناقابل تنسیخ ہیں۔

صدر بورڈ نے اس سلسلہ میں تین اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ فرمایا اورکہا کہ ایک تواس سلسلہ میں ناواقف لوگوں کے اشکالات رفع کئے جائیں اورانہیں مطمئن کیاجائے۔دوسرے یہ کہ عدالتی ضرورت پڑنے پر قانونی جدوجہد کی جائے تیسرے یہ کہ مسلمانوں کوعملی سطح پرمثالی نمونہ پیش کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ مولانا رابع حسنی ندوی نے واضح کیا کہ طلاق کے مسئلہ پرجواعتراضات کئے جا رہے ہیں، اس میں خاصا دخل نکاح اور طلاق کے مسئلہ کوصحیح طورپرنہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔یہ قانون انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔اللہ رب العزت کاہے جو انسانوں کاخالق اوران کی ضرورتوں اوردشواریوں کو سب سے زیادہ جاننے والاہے۔اس میں کسی طرح کاشبہ نہیں کرناچاہئے۔ مولانارابع حسنی ندوی نے واضح کیا کہ طلاق بظاہرسختی کاعمل سمجھاگیا ہے لیکن وہ سخت خطرہ سے بچانے کیلئے بطورضرورت رکھی گئی ہے۔ نکاح وطلاق ومیراث میں عورتوں کیلئے فائدہ کی صورتیں مردوسے زیادہ رکھی گئی ہیں۔ مولانا رابع حسنی ندوی نے یہ بھی کہا کہ شادی کواسلام میں معاہدہ کی شکل دی گئی ہے،ہاں مسلمان بہت سے امورکونظراندازکرتے ہیں اس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔مسلمانوں کی غلطی شریعت کی غلطی سمجھی جاتی ہے جودرست نہیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدرمولانا کلب صادق نے مسلمانوں کو جذبات سے کام لینے کے بجائے عقل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔اس لیے آج ہمیں یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف مسلمان ہیں۔میں صرف مسلمان سمجھتا ہوں اپنے آپ کو۔ مسائل اسی لئے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو شیعہ۔ سنی دیوبندی۔ بریلوی میں بانٹ رکھا ہے۔جب تک ہمارے اندر سے یہ برائی ختم نہیں ہوگی ہم کامیاب نہیں ہوسکتے۔آج ہمیں عقل اور تدبر سے کام لینا ہوگا اور عقل کیلئے علم کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کاسب سے اہم اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت جلد مشتعل ہوجاتے ہیں۔ بہت جلد غصہ ہوجاتے ہیں اور نعرے لگانے لگتے ہیں۔ لیکن یادرکھیں کہ مسائل صرف تدبر اور عقل سے حل ہوتے ہیں جذبات اور نعرہ سے نہیں۔انسان اور جانور میں فرق یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے عقل جیسا عظیم تحفہ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم عقل رکھتے ہیں اس لئے جانور پر سواری کرتے ہیں آج ہم نے عقل وتدبرسے کام لینا چھوڑ دیا ہے تو دیگر قومیں ہمارے اوپر سوارہیں۔

اس سے قبل مسلم پرسنل لا بور ڈ کے مجلس استقبالیہ کے صدر و ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد نے ملک بھر سے آئے مندوبین اور مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی  کہ مغربی بنگال کے مسلمانوں کی 90فیصد آبادی بورڈ کے موقف کی نہ صرف حمایت کرتی ہے بلکہ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلکتہ شہر کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کی میزبانی کا تین مرتبہ شرف حاصل ہوا ہے اور مسلمانوں میں جوش و خروش کا ماحول ہے۔انہوں نے کہا کہ کلکتہ شہر احتجاج کا شہر ہے۔ یہاں سامراجیت و استعماریت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔یہاں کے قومی لیڈروں نے مذہبی آزادی کی ہمیشہ وکالت کی ہے ۔

Loading...

بورڈ کے اجلاس میں جنرل سکریٹری بورڈ مولانا ارشد مدنی، مولانا محمد ولی رحمانی، مولانا کلب صادق، مولانا جلال الدین عمری، کاکا سعید، مولانا فخرالدین کچھوچھوی، مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی، مولانا عبدالوہاب خلجی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی،مولانا فضل الرحیم مجددی، مولانا عتیق احمدسنبھلی، مولانا عبداللہ مغیثی، مولانا سفیان قاسمی، مولانا مصطفیٰ رفاعی ندوی، قمرالاسلام، مولانااسرارالحق قاسمی، مولانا عبداللہ پھولپوری، ڈاکٹر اسماء زہرا، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ظفریاب جیلانی،مولانا انیس الرحمان قاسمی،کمال فاروقی ودیگر شامل ہیں ۔

Loading...