بھوپال انکاؤنٹر:سپریم کورٹ کی زیر نگرانی تفتیش کیلئے صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کوعرضداشت

کلکتہ۔ ’بھوپال انکاؤنٹر‘ کو ’قانون کا قتل‘ قرار دیتے ہوئے فورم فارآرٹی آئی ایکٹ اینڈ انٹی کرپشن کی سربراہ ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

Nov 17, 2016 11:26 AM IST | Updated on: Nov 17, 2016 11:26 AM IST
بھوپال انکاؤنٹر:سپریم کورٹ کی زیر نگرانی تفتیش کیلئے صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کوعرضداشت

فائل فوٹو

کلکتہ۔ ’بھوپال انکاؤنٹر‘ کو ’قانون کا قتل‘ قرار دیتے ہوئے فورم فارآرٹی آئی ایکٹ اینڈ انٹی کرپشن کی سربراہ ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔اس سلسلے میں محترمہ خان کی جانب سے صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی‘ نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری اور وزیراعظم ہند نریندر مکتوب کو عرضداشت بھی پیش کی گئی ہے ۔ بھوپال جیل میں قید کالعدم تنظیم اسلامک اسٹوڈنٹس موومنٹ آف انڈیا(سیمی) کے 8زیرسماعت قیدیوں کے مبینہ فرار اور پھر ا ن کو انکاؤنٹر میں ہلاک کردیئے جانے کے معاملے کو پورے ملک میں شک و شبہ کی نظرسے دیکھاجا رہا ہے ۔ مدھیہ پردیش پولس کی اس کارروائی پر ملک کے ہر کونے سے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔

عرضداشت کی نقل یہاں نامہ نگاروں کو سونپتے ہوئے فورم فارآرٹی آئی ایکٹ اینڈ انٹی کرپشن کی سربراہ ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرہ کیلئے قانون کی حکمرانی اولین چیز ہوتی ہے لیکن مدھیہ پردیش کی پولس نے ایک خاص طبقہ کی دشمنی میں زیر سماعت قیدیوں کو ’ قتل‘ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ قانون اور عدالتی نظام انصاف وغیرہ سے ماورا ہیں اورا پنے صوابدیدی اختیارات کو ہی ملک کا قانون سمجھتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پولس انکاونٹرکے سلسلے میں2014میں کچھ رہنما اصول وضع کئے تھے لیکن مدھیہ پردیش کی حکومت اور پولس نے سپریم کورٹ کو بھی انگوٹھا دکھاتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کا ارتکاب کیا ہے جس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہئے ۔

Loading...

Loading...