بھارتیہ جنتا پارٹی سے حساب۔ کتاب کے موڈ میں نتیش کمار!۔

جہاں ایک طرف امت شاہ اور پی ایم مودی کی پوری ٹیم چار سال کی حصولیابیاں شمار کرا رہی تھی وہیں، نتیش کمار نے پٹنہ میں بینکاروں سے خطاب کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

May 29, 2018 10:41 AM IST | Updated on: May 29, 2018 10:41 AM IST
بھارتیہ جنتا پارٹی سے حساب۔ کتاب کے موڈ میں نتیش کمار!۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار: فائل فوٹو۔

نتیش کمار نے نریندر مودی حکومت کے چار سال پورے ہونے پر تین ایسی باتیں کہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک اور علاقائی طاقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)  کے رویہ کو  ' گٹھ بندھن دھرم' کے لئے ٹھیک نہیں مان رہی ہے۔ جہاں ایک طرف امت شاہ اور پی ایم مودی کی پوری ٹیم چار سال کی حصولیابیاں شمار کرا رہی تھی وہیں، نتیش کمار نے پٹنہ میں بینکاروں سے خطاب کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے پہلی بار نوٹ بندی پر حملہ کیا۔ یہ وہی نتیش کمار ہیں جنہوں نے گٹھ بندھن میں رہتے ہوئے بھی نوٹ بندی کے فیصلہ کو درست ٹھہرایا تھا۔ آج وہ این ڈی اے میں بی جے پی کے مضبوط اتحادی مانے جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کا پلٹنا بہت کچھ کہتا ہے۔

نتیش یہیں نہیں رکے، انہوں نے نیرو مودی اور وجے مالیا جیسے بھگوڑے کاروباریوں کا نام لئے بغیر بینکنگ نظام پر جم کر حملہ کیا۔ نتیش نے اس پر بھی حیرانی جتائی کہ کیسے ہزاروں کروڑ کے گھپلہ کی جانکاری  ' ہائی لیول' تک کو نہیں لگی۔ نتیش سیاست کے ایک ماہر کھلاڑی ہیں۔ انہیں پتہ ہو گا کہ یہ بیان مودی مخالفین کا نیا ہتھیار بنے گا۔ لیکن وہ ایک پیغام صاف گوئی سے دینا چاہتے تھے جو انہوں نے دے دیا۔ اور ٹھیک اس کے بعد بہار میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے طنز کستے ہوئے کہا کہ چچا نتیش کو بہت دیر سے علم حاصل ہوا۔

Loading...

اس کے بعد صحافیوں نے گھیر کر نتیش سے پوچھا کہ نریندر مودی کے چار سال پر کیا کہیں گے تو وہ ٹال گئے اور پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے جواب سشیل جی (سشیل مودی) دیں گے'۔ اس سے واضح طور پر پتہ چلا کہ وہ تعریف میں قصیدے پڑھنے کے بجائے بچنا چاہ رہے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر سشیل مودی کیا بولیں گے یہ ایک عام آدمی کو بھی پتہ ہے۔

حالانکہ گٹھ بندھن دھرم نبھاتے ہوئے انہوں نے مودی کے چار سال پر ایک ٹویٹ ضرور کیا۔ لیکن 24 گھنٹوں کے اندر ٹویٹ تیسرا ایسا موقع تھا، جس سے نیتش کے مزاج کا اشارہ ملتا ہے۔ نتیش نے اپنے ٹویٹ میں کہا، 'میں امید کرتا ہوں کہ مرکزی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترے گی۔' یہ حیران کرنے والا ٹویٹ ہے۔ اس میں کامیابیاں گنانے کے بدلے نتیش نے یہ پیغام دینا زیادہ مناسب سمجھا کہ بچے ہوئے ایک سال میں کام بھی کافی بچے ہوئے ہیں۔

تو کیا نیتش کا مزاج بدل رہا ہے؟ ایسا نہیں ہے بشرطیکہ بی جے پی خود اس کے لئے زمین تیار نہ کرے۔ یہ کہنا تھا نتیش کمار کے ایک انتہائی قریبی لیڈر کا جن کی پکڑ بی جے پی کے سینئر لیڈروں میں بھی گہری ہے۔ وہ کہتے ہیں، "نتیش بی جے پی کے ساتھ آنے سے پہلے نریندر مودی کے متوازی کھڑے تھے اور اپوزیشن انہیں پی ایم امیدوار بنا سکتا تھا۔ اس کے باوجود نتیش نے بدعنوانی میں ڈوبی آر جے ڈی اور کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی سے ہاتھ ملا کر خود کو بہار تک محدود کر لیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بی جے پی اپنی شرطوں پر نیتش حکومت چلائے۔

اس سے پہلے رام نومی کے موقع پر فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران بھی بی جے پی لیڈروں نے نتیش پر جم کر بھڑاس نکالی تھی۔ جب پی ایم مودی پٹنہ آئے تو نتیش کے ہاتھ جوڑ کر التجا کرنے کے باوجود پٹنہ یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ نہیں مانا گیا۔ عوامی فورموں سے ایسی فضیحت کی امید نتیش جیسا قدآور لیڈر کبھی نہیں کر سکتا۔

اب جب بہار میں بی جے پی کے ساتھ بنی حکومت پہلی سالگرہ منانے کی تیاری کر رہی ہے اور مرکزی حکومت اپنی میعاد کار کے آخری سال میں داخل ہو گئی ہے، نیتش کچھ حساب کتاب کے موڈ میں ہیں۔ وزیراعظم مودی اپنی تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ اگر پٹنہ اور دلی میں ایک ہی اتحاد کی سرکار بن جائے تو ترقی میں ڈبل انجن لگ جائے گا۔ یہ ڈبل انجن پہلے حزب اختلاف کو دکھائی نہیں دے رہا تھا، اب نیتش کو بھی۔

نیتیش کمار چاہتے ہیں کہ مودی حکومت ڈبل انجن کا وعدہ پورا کرے۔ خصوصی ریاست کا درجہ ایک بڑا مدعا ہے۔ نیتش اب اس پر زور دے رہے ہیں۔ ہر فورم سے نیتش اور ان کے پارٹی کے رہنما اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔

Loading...