نرم ہندتواکے ساتھ سیکولرشبیہ بنائے رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں نتیش کمار

پٹنہ: بہار کے وزیرا علیٰ نتیش کمار سیاست کے ماہر کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ اس لئے وہ نرم ہندتوا کے ساتھ سیکولر شبیہ برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کرہرے ہیں۔

Apr 26, 2018 09:52 PM IST | Updated on: Apr 26, 2018 09:54 PM IST
نرم ہندتواکے ساتھ  سیکولرشبیہ بنائے رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں نتیش کمار

پٹنہ: "اکے سادھے سب سدھے، سب سادھے سب جائے" پرسیاست تجربہ کا دوسرا نام ہے۔ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار آج کل ایس اہی نیا تجربہ کررہے ہیں۔ ان کی سیاست دوراہے پر ہے۔ بدعنوانی کے نام پر لالو پرساد یادو سے الگ ہوئے۔ اب بی جے پی سے دوستی کی دوسری اننگ نبھانی ہے، لہٰذا نئے رنگ کی تلاش میں ہیں۔

بدعنوانی اور فرقہ واریت سے دوری نتیش کمار کا نیا نعرہ ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ پس وپیش میں نظر آرہے ہیں۔ 27 جولائی 2017 کو وہ رات ورات مہا گٹھ بندھن سے الگ ہوئے۔ بی جے پی کے ساتھ سرکار بنائی، پھر این ڈی اے میں شامل ہوئے۔ نتیش بی جے پی کی گود میں بیٹھے یا بی جے پی ان کی گود میں بیٹھی، اس پر سیاسی بحث ابھی بھی جاری ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ 2013 تک نتیش کے ساتھ 17 سالوں کا ساتھ نبھانے والی بی جے پی کی شکل الگ ہے۔ یہ پارلیمنٹ میں 283 ممبران والی بی جے پی ہے، لہٰذا بہار کی پتوار بھلے نتیش کے ہاتھ میں، لیکن بی جے پی دھمک سرکار میں واضح طور پر سنائی دے رہی ہے۔

Loading...

نتیش بھی سیاست کے ماہر کھلاڑی رہے ہیں۔ ان کو بی جے پی کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی پارٹی کی شناخت بچانے کی بھی ہے، اس کوشش میں بی جے پی کے ساتھ مڈبھیڑ بھی لازمی ہے۔ نتیش بڑی ہوشیاری سے بی جے پی کے کچھ تیر بھی اپنی ترکش میں سجانے کی کوشش کررہے ہیں۔

نتیش کمار نے نرم ہندتوا کو اپنایا ہے۔ وہ جذباتی موضوعات کو سیاسی موضوع بنانے سے پرہیز نہیں کررہے ہیں۔ گنگا کی صفائی کا موضوع نتیش کمار نے بہت زور وشور سے اٹھایا ہے۔ اس پر مودی نے نتیش کامطالبہ تسلیم کیا اور گنگا کی صفائی پر مرکز خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

مذہبی رسوم میں نتیش کی شراکت پہلے کم نظر آتی تھی، لیکن نئی حکومت کے سربراہ کے ناطے اب انہیں اس سے پرہیز نہیں ہے۔ گذشتہ سال ستمبر میں آرا میں رامانج مہاراج کی 1000 ویں جینتی پر مہایگیہ میں نتیش نے موجودگی درج کرائی۔ آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت بھی وہاں پہنچے تھے،، حالانکہ دونوں کے درمیان ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔

اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد نتیش کمار نے سمریا مہا کنبھ کا افتتاح کیا اور سنتوں کا آشیرواد حاصل کیا۔ اس منصوبہ میں بی جے پی تنظیم متحرک رہی، لیکن نتیش نے سرکاری سہولیات فراہم کرکے سہرا لینے کی کوشش بھی کی۔

اس کے بعد جنوری میں موہن بھاگوت آرایس ایس کی توسیع کے لئے 10 دنوں کے سفر پر بہار میں رہے۔ مظفر پور میں انہوں نے بیان دیا کہ فوج کی لڑائی کے لئے تیار رہنے میں وقت لگتا ہے، لیکن ضرورت پڑی تو آر ایس ایس کے لاکھوں کارکن ایک ماہ میں اس کے لئے تیار ہوسکتے ہیں۔ تمام مخالف جماعتوں نے بھاگوت کو نشانے پر لیا۔ نتیش کمار کی پارٹی بھی پس وپیش میں تھی، لیکن جب سوال نتیش سے پوچھا گیا تو جواب واضح تھا، اگر کوئی  غیر سرکاری تنظیم ملک کی سرحد کی حفاظت کے لئے اس طرح تیار ہے تو اس میں حرج کیاہے؟

اگلا موقع تھااسمبلی کے بجٹ اجلاس کا۔ اس میں قبرستانوں کی طرز پر مندروں کی چہار دیواری کے لئے بھی تقریباً 400 کروڑ روپئے الاٹ کئے جانے کا مسئلہ زیر بحث رہا، لیکن یہ نتیش کی ایسی چال تھی، جس پر مخالف جماعتیں بھی کھل کر سامنے نہیں آپائیں۔ ہاں، نتیش پر بی جے پی کے دبائو میں کام کرنے کا الزام ضرور لگا۔

نتیش کمار کی نرم ہندتوا کا امتحان رام نومی کے بعد نو اضلاع میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد نے لی۔ نتیش اس میں کامیاب رہے۔ چنگاری بھڑکی ضرور، لیکن آگ پھیلی نہیں۔ انتظامیہ نے مستعدی دکھائی۔ بی جے پی کے کئی لیڈر گرفتار کئے گئے۔ نتیش نے پیغام دیا کہ سماج کو تقسیم کرنے والی سیاست انہیں برداشت نہیں ہوگی۔

بی جے پی اور جے ڈی یو کے بیان بہادروں نے جلدی ہی مورچہ بندی کی، لیکن نتیش کا عزم واضح تھا، وہ اپنی سیکولر تصویر بچائے رکھنا چاہتے تھے۔ وزیراعظم مودی نے چمپارن کی سرزمین سے شرپسند عناصر کے خلاف نتیش کی خوب تعریف کی۔ آخر کار اتحاد بچانا بھی تھا اور اسی کے ساتھ دونوں جماعتوں کا تنائو بھی ختم ہوگیا۔

تاہم نتیش کمار اس مشکل میں رہے کہ کہیں انہیں ہندو مخالف نہ قرار دے دیاجائے۔ خاص  کرکے مسجدوں اور مدرسوں کو ہوئے نقصان کے لئے سرکاری خزانے سے پیسہ دینے کے فیصلے پر وہ گھرتے نظر آئے۔ لیکن ایک ماہر لیڈر کی طرح انہون نے مشکل حالات کو پار کیا۔ کسی بھی ممکنہ پولرائزیشن سے جے ڈی یو کو ہونے والے نقصان کی فکر بھی نتیش کو تھی۔ نتیش نے کشیدہ حالات والے علاقے میں گپتیشور پانڈے جیسے اعلیٰ پولس افسر کو بھیجا، جن کی چرچا پولس کے علاوہ ’بھکت‘ کے طور پر ہوتی ہے۔

نتیش کمار نے مشکل حالات ختم ہوجانے کے بعد ایک بار پھر نرم ہندتوا کی راہ پکڑی۔ بھگوان رام کی بیوی سیتا کی جائے پیدائش سیتامڑھی پر انہوں نے فوکس کیا۔ ان کی پارٹی نے کہاکہ رام مندر کا مسئلہ کورٹ میں ہے، لیکن سیتا مندر کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

نتیش کمار نے خود جانکی نومی کے موقع پر سیتامڑھی میں سیتا مندر بنانے کا اعلان کیا۔ نتیش نے ہی پہلی بار دو سال پہلے جانکی نومی کو ریاستی تعطیل کا اعلان کیاتھا۔ رامائن سرکٹ سے سیتامڑھی کو جوڑنے کی تیاری زوروشور سے چل رہی ہے۔

اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل نتیش پر آرایس ایس کی گود میں کھیلنے کا الزام لگارہی ہے۔ آرجے ڈی کا کہناہے کہ مندر سے کس طرح کی ترقی ہوگی، لیکن نتیش کمار نئے راستے پر ہی چلیں گے۔ انتظامیہ اور ترقی ان کی سیاست کا اصل پہلو ہے، اگر اس میں کوئی کمی بھی رہ جائے تو مذہب کی چاشنی بھی انتخابی راہ کو آسان بناسکتی ہے۔

 

 

Loading...