نتیش کمار کے معاملے پر آر جے ڈی اور کانگریس کے حلقوں میں الگ الگ رائے

پٹنہ ۔ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کو لے کر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے اگلے سیاسی قدم کے ’قیاس‘ نے نہ صرف قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں سرگرمی بڑھا دی ہے بلکہ مہاگٹھبندھن کے دو اہم جزو راشٹریہ جنتا دل ( آر جے ڈی) اور کانگریس کے حلقوں میں بھی الگ الگ رائے پیدا کردی ہے۔

Jun 30, 2018 01:03 PM IST | Updated on: Jun 30, 2018 01:03 PM IST
نتیش کمار کے معاملے پر آر جے ڈی اور کانگریس کے حلقوں میں الگ الگ رائے

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار ۔ فائل فوٹو

پٹنہ ۔ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کو لے کر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے اگلے سیاسی قدم کے ’قیاس‘ نے نہ صرف قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں سرگرمی بڑھا دی ہے بلکہ مہاگٹھبندھن کے دو اہم جزو راشٹریہ جنتا دل ( آر جے ڈی) اور کانگریس کے حلقوں میں بھی الگ الگ رائے پیدا کردی ہے۔ ممبئی میں علاج کرا نے والے آرجے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کی مزاج پرسي کے لئے جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر اور وزیر اعلی نتیش کمار کے فون پر بات کرنے کی خبر اور اس سے پہلے کے کچھ بیانات کی وجہ سے ان کے اگلے سیاسی قدم کو لے کر قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔  کمار کے اگلے سیاسی قدم کو لے کر جہاں این ڈی اے کے اتحادی پارٹی تھوڑے پریشان نظر آرہے ہیں وہیں مهاگٹھبندھن کے دو اہم اجزاء آر جے ڈی اور کانگریس ایک دوسرے کے خلاف کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کے چھوٹے بیٹے اور حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی پرساد یادو کے اس بیان پر کانگریس نےکل سخت اعتراض کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کمار کے لئے مهاگٹھبندھن کا دروازہ بند ہے۔ کانگریس کے ایم ایل سی پریم چندر مشرا نے کہا کہ مسٹر تیجسوی یادو اپوزیشن لیڈر کے طور پر اچھا کام کر رہے ہیں لیکن ان کو اتحاد کے سلسلے میں بیان دیتے وقت تھوڑا تحمل برتنا چاہئے۔ اتحاد میں کون شامل ہو گا اس کا فیصلہ کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی اور آر جے ڈی کے قومی صدر کریں گے۔ لہذا، اس معاملے میں غیر ضروری بیان بازی ٹھیک نہیں ہے۔

کانگریس ممبر اسمبلی شکیل احمد نے بھی آر جے ڈی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ ضد کی سیاست نہ کریں۔ سیاست رویے اور صبر کے ساتھ چلتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے اب سال 2019 کا الیکشن ہے اور ہم سب کی کوشش سیکولر طاقتوں کو متحد کرنے کی ہونی چاہئے تاکہ ووٹوں کی تقسیم رکے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دی جا سکے۔ وہیں، ذرائع کے مطابق آر جے ڈی لیڈر تیجسوی پرساد یادو کانگریس کے ریاستی رہنماؤں کی بیان بازی سے ناراض بتائے جا رہے ہیں۔  یادو نے گزشتہ منگل کو پریس کانفرنس میں صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ  نتیش کمار کے لئے مهاگٹھبندھن کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہے اور اس معاملے پر ان کی پارٹی اتحادی پارٹی کے دباؤ کو بھی نہیں مانے گی۔ اس نے کہا تھا کہ اس معاملے میں کوئی کیا کہتا ہے ضروری نہیں ہے۔ اس معاملے میں فیصلہ کانگریس صدر راہل گاندھی کو کرنا ہے اور ان سے ان کی بات ہو چکی ہے۔

آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی بھائی وریندر نے کہا کہ کچھ لوگوں سے سازش کے تحت بیان بازی کرائی جا رہی ہے۔ مهاگٹھبندھن میں نتیش کمار کے لئے کوئی جگہ نہیں اور کانگریس کے لیڈروں کوبلاوجہ بیان بازی سے بچنا چاہئے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہاگٹھبندھن میں کون شامل ہوں گے یہ فیصلہ لالو پرساد یادو، راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کریں گی۔

Loading...

Loading...