بی جے پی کو تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے بارے میں غور کرنا ہوگا: پاسوان

خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے کل کہا کہ اتر پردیش اور بہار میں ہوئے لوک سبھا ضمنی انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جو ٹھیک نہیں ہے اورحلیف پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے تاثر کو تبدیل کرنا ہوگا۔

Mar 19, 2018 09:25 AM IST | Updated on: Mar 19, 2018 09:25 AM IST
بی جے پی کو تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے بارے میں غور کرنا ہوگا: پاسوان

خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان : فائل فوٹو۔

پٹنہ ۔ خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے کل کہا کہ اتر پردیش اور بہار میں ہوئے لوک سبھا ضمنی انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جو ٹھیک نہیں ہے اورحلیف پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے تاثر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ این ڈی اے کی حلیف لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے صدر پاسوان نے یہاں پارٹی کے ریاستی دفتر میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی کو تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔ بی جے پی کو لوگوں کے درمیان اس کے بارے میں پیدا ہونے والے تاثر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کچھ نہیں کیا بلکہ صرف تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چلنے کا نعرہ دے کر ہی حکومت کیا ہے۔

ایل جے پی کے صدر نے کہا کہ بہار میں ہوئے لوک سبھا ضمنی انتخابات کے نتائج سے این ڈی اے کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہار کے ارریہ لوک سبھا ضمنی انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے سابق ایم پی محمد تسليم الدين کے بیٹے کو امیدوار بنایا تھا، جن کو ہمدردی کی وجہ سےووٹ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح جہان آباد اسمبلی ضمنی انتخابات میں بھی آر جے ڈی نے سابق ممبر اسمبلی مندركا سنگھ یادو کے بیٹے کو ٹکٹ دیا تھا اور انہیں بھی ہمدردی کے ووٹ کا فائدہ ملا ہے۔

 پاسوان نے کہا کہ اتر پردیش کے گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا ضمنی انتخابات کے نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے اتر پردیش کے وزیر اعلی سے اس سلسلے میں بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ہندوستان میں جب بھی الیکشن ہوتا ہے تب ذات پات کی بنیاد پر صف بندی بھاری پڑتی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کا انتخاب میں ایک ساتھ آنا بھی ہار کا سبب بنا۔ اسی طرح، مسلمان، یادو کی صف بندی کے ساتھ ہی دلت ووٹ کا جڑنا بھی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں جو بھی صف بندی ہو اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ این ڈی اے کا ایک نعرہ ہے سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اس کے پیش نظر تمام طبقوں کو ایک ساتھ لے کر آگے چلنا ہے۔

 پاسوان نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ ہی بہار حکومت بھی اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئی منصوبے چلا رہی ہے۔ اس سمت میں متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کے اتحادیوں کا الگ الگ منشور ہے لیکن این ڈی اے سماجی انصاف اور سیکولرازم کے تئیں مکمل طور پرپابند عہد ہے۔ ان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی این ڈی اے میں ہے اور رہے گی، ادھر ادھر جانے والی نہیں ہے۔

Loading...

Loading...