تین طلاق کا مسئلہ سیاسی موضوع نہیں، مسلم خواتین کےاعزازوتحفظ کا مسئلہ ہے: روی شنکرپرساد

مرکزی وزیرقانون نے کہا کہ مایاوتی اورممتا بنرجی جیسی خاتون سیاستدانوں کو کھل کرتین طلاق کی مخالفت کرنی چاہئے

Sep 23, 2018 09:01 PM IST | Updated on: Sep 23, 2018 09:31 PM IST
تین طلاق کا مسئلہ سیاسی موضوع نہیں، مسلم خواتین کےاعزازوتحفظ کا مسئلہ ہے: روی شنکرپرساد

مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ تین طلاق کا مسئلہ سیاسی نہیں ہے۔

پٹنہ:  مرکزی وزیرقانون روی شنکر پرساد نے آج کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ کوئی سیاست کا موضوع نہیں ہے بلکہ مسلم خواتین کے اعزازاورتحفظ سے متعلق مسئلہ ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر روی شنکر پرساد نے یہاں مودی حکومت کے ذریعہ تین طلاق پرلائے گئے آرڈیننس پران کا شکریہ ادا کرنے آنے والی مسلم خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ نہ سیاست کا موضوع ہے اورنہ ووٹ کا ۔

انہوں نے کہا کہ لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ایسے معاملے پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدرمایاوتی اورمغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی جیسی خاتون سیاستدانوں کو کھل کرتین طلاق کی مخالفت کرنی چاہئے۔

Loading...

وزیرقانون نے کہا کہ تین طلاق کوئی عبادت اورمذہب کا بھی موضوع نہیں ہے۔ یہ صرف خواتین کے احترام اورتحفظ سے متعلق معاملہ ہے، جس پرکسی طرح کی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صدرجمہوریہ رام ناتھ كووند کے آرڈیننس پردستخط کئے جانے کے بعد اب مسلم خواتین کو حق ہے کہ اگر وہ تین طلاق کے رواج کا شکار ہیں تو وہ اپنے شوہر کے خلاف متعلقہ تھانے میں ایف آئی آردرج کرا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:    تین طلاق دینے پر اب ہو گی سزا، مرکزی کابینہ نے آرڈیننس کو دی منظوری

روی شنکر پرساد نے کہا کہ اگرمسلم شوہراب بھی اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہے، تو اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم شوہروں کواس وقت تک ضمانت نہیں دی جائے گی، جب تک عدالت میں ان کی بیویوں کی سماعت نہیں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت ماں یا متاثرہ بیوی کو کمسن بچے کی ذمہ داری دی جائے گی اور متعلقہ مجسٹریٹ پرورش کی رقم طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ مسلم خواتین کی کامیابی کی ہراس نئی اونچائی کو چھوئے کیونکہ ان کی پارٹی 'سب کا ساتھ سب کا وکاس 'کی پالیسی پر چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:    طلاق ثلاثہ آرڈیننس سے پرسنل لابورڈ اورعلمائے کرام نے کیا نااتفاقی کااظہار

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے گزشتہ مانسون اجلاس میں راجیہ سبھا میں تین طلاق بل منظور نہیں کیا جا سکا تھا، جبکہ لوک سبھا میں گزشتہ سرمائی اجلاس میں متفقہ طورپراس بل کو منظورکرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:    طلاق کے معاملہ میں سلفی مسلک سب سے درست، پرسنل لا بورڈ اہلحدیثوں سے رجوع کرے: مولانا وحیدالدین خان

یہ بھی پڑھیں:    طلاق ثلاثہ بل مسلمانوں کومنظورنہیں، وہ شریعت پرعمل کریں گے: مولانا ارشد مدنی

یہ بھی پڑھیں:  دارالعلوم دیوبند نے تین طلاق آرڈیننس پر کیا اظہار تشویش، کہا، اسے ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا

یہ بھی پڑھیں:  تین طلاق پر ٹویٹ سے سوشل میڈیا پر چھا گئی یہ بالی ووڈ اداکارہ

Loading...