مودی حکومت کے ہر گاؤں میں بجلی کے دعوی کی نیوز 18 نے کھولی پول

نیوز 18 نے بہار کے ایک گاؤں کا ریلٹی چیک کیا۔ اس ریلٹی چیک میں سامنے آیا کہ پٹنہ سے چند کلومیٹر ہی دور گاؤں میں بجلی پہنچنے کے باوجود لوگ روشنی کے لئے لالٹین پر منحصر ہیں۔

May 01, 2018 10:41 AM IST | Updated on: May 01, 2018 10:42 AM IST
مودی حکومت کے ہر گاؤں میں بجلی کے دعوی کی نیوز 18 نے کھولی پول

پٹنہ کے کئی گاوں روشنی کے لئے لالٹین پر منحصر

پٹنہ۔ مودی حکومت نے اتوار کو ایک بڑا اعلان کیا۔ اس اعلان کے تحت بتایا گیا کہ منی پور کے ایک آخری بچے گاوں کو پاور گرڈ سے جوڑنے کے ساتھ ہی ملک کے سبھی گاووں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔ وزیر اعظم مودی سمیت دیگر بی جے پی لیڈروں نے اس کامیابی کے لئے تیزی سے مبارکباد دینا شروع کر دیا۔

نیوز 18 نے بہار کے ایک گاؤں کا ریلٹی چیک کیا۔ اس ریلٹی چیک میں سامنے آیا کہ پٹنہ سے چند کلومیٹر ہی دور گاؤں میں بجلی پہنچنے کے باوجود لوگ روشنی کے لئے لالٹین پر منحصر ہیں۔ مزید آگے بڑھ کر یہ واضح ہو گیا کہ اب بھی بہت سے گاؤں ایسے ہیں جہاں کاغذ پر بجلی تو پہنچ گئی ہے لیکن بجلی کی سپلائی کا کوئی نظام ہے ہی نہیں۔

Loading...

مرکزی حکومت سے پہلے گزشتہ سال دسمبر میں ہی نتیش حکومت نے بھی اس بات کا دعوی کیا تھا کہ تمام گاووں میں بجلی پہنچائی جا چکی ہے۔ دارالحکومت پٹنہ سے 15 کلومیٹر دور گنگا کے آس پاس کے گاووں میں بجلی سپلائی کا کوئی نام و نشان تک نہیں ملا۔ گزشتہ سال مدھوپور گاؤں کے لوگ پہلی بار بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفارمر دیکھ کر کافی پرجوش بھی ہوئے تھے۔ اس کے بعد جلد ہی اسے فیڈر سے جوڑ کر افتتاح کا وقت مقرر کر دیا گیا۔ علاقے کے ایم پی رام کرپال یادو اور داناپور کے ممبر اسمبلی آشا دیوی نے بٹن دبا کر بجلی کا بلب جلایا اور بڑے جوش و خروش سے گاؤں میں بجلی شروع کی گئی۔ لیکن گاؤں والوں کی یہ خوشی صرف چار گھنٹوں کے لئے ہی تھی۔

گاؤں کے ہی ایک شخص پرمود کمار نے کہا "رہنماؤں کے جاتے ہی بجلی چلی گئی۔" پرمود ہی کی بیوی سونیا نے بتایا "اس افتتاح کے بعد کوئی نہیں آیا اور ہمیں اندھیرے میں ہی چھوڑ دیا گیا"۔ مدھوپور گاؤں کی طرح پٹنہ سے 175 کلومیٹر دور مغربی چمپارن ضلع کے 22 گاووں کو ابھی تک بجلی سپلائی کے لئے کسی انفراسٹرکچر سے نہیں جوڑا گیا ہے۔ بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمر کا گاوں میں نام و نشان تک نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ خاندانوں نے بجلی کے لئے خود سے سولر پینل خریدے ہیں۔

چمپارن کے رام نگر بلاک میں پڑنے والے گوبرهيا، سمرهنی، نورنگيا، دھوكنی اور گردی سمیت کچھ گاؤں ایسے بھی ہیں جہاں بجلی دور کا خواب ہے۔ کیونکہ وہاں بجلی کنکشن یا کسی دوسرے انتظامات کا نام ونشان تک نہیں ہے۔

کچھ گاووں میں بجلی کے کھمبے تو لگا دیے گئے ہیں لیکن کیبل نہیں بچھائے گئے ہیں۔ حکومت کی سولر پینل مہیا کروانے کی منصوبہ بندی بھی ناکام ہے کیونکہ بیٹری انسٹال نہیں کی گئی ہے۔

بجلی کے بغیر بجلی کا بل بجلی کے بغیر بجلی کا بل

سيتامڑھی ضلع ہیڈکوارٹر سے سات کلومیٹر دور مسروليا گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ بجلی کے کنکشن کے نام پر کچھ بجلی حکام نے ہر خاندان سے دو دو ہزار روپے بھی وصول کئے لیکن بجلی ابھی تک نہیں آئی۔ بجلی کے کھمبے تو لگے ہیں لیکن کیبل غائب ہیں کوئی ٹرانسفارمر بھی نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ گھروں میں رقم کے بدلے میٹر انسٹال کر دیے گئے ہیں۔ اور تو اور بجلی کے بغیر ہی ایک فکس اماونٹ کا بل بھی آنے لگا۔

اس گاؤں میں تقریبا چار ہزار لوگ رہتے ہیں اور 1900 ووٹرس بھی ہیں۔ انتخابات کے دوران نتیش کمار اکثر اس علاقے میں آتے ہیں کیونکہ یہاں کے زیادہ تر خاندان نتیش کمار کی طرح کرمی سماج سے ہی آتے ہیں۔

گاؤں میں رہنے والے پپو پٹیل نے بتایا "گاؤں کے تقریبا 250 خاندانوں نے پانچ سال پہلے ہی بجلی کنکشن کے لئے درخواست دی تھی لیکن اب بھی ہماری قسمت میں لالٹین ہی ہے۔ اوپر سے بجلی آئے بغیر بجلی کا بل بھیج کر حکومت ہمارا مذاق اڑا رہی ہے۔ ہم نے شکایت بھی کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ "

Loading...