مغربی بنگال : مجبور و مظلوم روہنگیائی پناہ گزینوں کیلئے کولاری گاؤں والوں نے کھولا دل کا دروازہ ،40 کو دی پناہ

مرکزی حکومت نے روہنگیائی رفیوجیوں کو’’ ملک کی سیکورٹی کیلئے خطرہ بتاتی ہے‘‘ مگر مقامی لوگوں کی دلیل ہے کہ انہوں نے انسانیت کی بنیاد پر ان بے گھر اور آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور گروہوں کو پناہ دیا ہے اور ان کیلئے یہ نئی کالونی مقامی افراد و مقامی تنظیموں کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔

Jan 14, 2018 09:36 PM IST | Updated on: Jan 15, 2018 11:28 AM IST
مغربی بنگال : مجبور و مظلوم روہنگیائی پناہ گزینوں کیلئے کولاری گاؤں والوں نے کھولا دل کا  دروازہ  ،40 کو دی پناہ

کلکتہ: ایک ایسے وقت میں جب دنیا اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود روہنگیائی کیلئے تنگ ہوتی جارہی ہے تو مغربی بنگال کے جنوبی 24پرگنہ ضلع کے برئی پورپولس اسٹیشن کے کولاری گاؤں کے باشندوں نے روہنگیائی رفیوجیوں کیلئے اپنے دل کے دروازے کھولتے ہوئے اپنے گاؤں میں نہ صرف آباد کیا ہے بلکہ 40روہنگیائی شہریوں کی مکمل کفالت بھی کررہے ہیں۔ 20بالغ مردو عورت اور 11بچے جن کی عمر 75دن سے لے کر 6سال کی عمر کے درمیان ہے پر مشتمل 8خاندانوں کے اس گروپ کیلئے گاؤں نے دو کمرے پر مشتمل ٹین کے گھر تعمیر کرائے ہیں اور مشترکہ بیت الخلاء اور حمام بھی تعمیر کیے گئے ہیں ۔یہ لوگ ٹوٹی پھوٹی بنگلہ بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔یہ لوگ گزشتہ چنددنوں کے درمیان یہاں پہنچے ہیں ۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے روہنگیائی رفیوجیوں کو’’ ملک کی سیکورٹی کیلئے خطرہ بتاتی ہے‘‘ مگر مقامی لوگوں کی دلیل ہے کہ انہوں نے انسانیت کی بنیاد پر ان بے گھر اور آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور گروہوں کو پناہ دیا ہے اور ان کیلئے یہ نئی کالونی مقامی افراد و مقامی تنظیموں کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔

مقامی تھانہ نے بتایا کہ اس نے مغربی بنگال حکومت کو اس نئی کالو نی سے متعلق بتایا ہے کہ یہاں کچھ روہنگیائی رفیوجی آئے ہیں جن کے پاس اقوام متحدہ کے پاس اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے رفیوجی (یو این ایچ سی آر)کے کارڈ ہیں ۔ ان روہنگیائی شہریوں کو پناہ دینے اور ان کی مدد میں پیش پیش رہنے والے دیش بچاؤ سماجک کمیٹی کے صدر اور رنگ و روغن کے کاروبار سے وابستہ حسین غازی نے بتایا کہ’’8روہنگیائی خاندان کیلئے 16ٹین کے کمرے تعمیر کیے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم نے 15کھٹہ زمین پر اس کالونی کی تعمیر کی ہے ۔یہ مکانات مختلف تنظیموں اور افراد کے چندے سے تعمیر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے کل 4000روہنگیا ئی شہری آباد ہیں اور جن کے پاس دستاویز نہیں ہیں وہ بنگال کے مختلف جیلوں میں بند ہیں ‘‘۔ رفیوجیوں کو ہدایت دی گئی ہے وہ اپنے ساتھ رفیوجی کارڈ ہمیشہ ساتھ میں رکھیں اور ان رفیوجیوں کو مقامی مقامات پر مزدوری کیلئے کام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں گرم کپڑے اور میڈیکل دوائیاں بھی فراہم کی جارہی ہے ۔

Loading...

یہ لوگ بنگلہ دیش کے راستے برئی پور کے کلاری گاؤ ں پہنچے ہیں ۔40افراد کے ساتھ گاؤں میں اپنے شوہر شاہدالاسلام ،تین بچوں ،ساس اور دیور کے ساتھ پہنچی مومنہ خاتون کہتی ہیں کہ’’وہ یہاں آکر محفوظ ہیں ،گاؤں والوں نے نہ صرف پناہ دیا ہے بلکہ گرم کپڑے، چاول اور دیگر کھانے کی اشیاء بھی فراہم کیا ہے اور ہمارے شوہر کو کام بھی مل گیا ہے جس سے وہ ہماری یومیہ ضرورت کو پورا کرنے کے مطابق کمالیتے ہیںں حسین غازی نے بتایا کہ روہنگیائی مردو کو روزگار فراہم کیا جارہا ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کی خود کفالت کرسکے اس کے علاوہ ان کے بچوں کو مقامی مدرسوں میں تعلیم دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھٹک رہے روہنگیائی وہ یہاں پناہ دینے کو تیار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ملا ہے تاہم مقامی عوامی نمائندگان سے ہم لوگوں نے تعاون اور حمایت مانگا ہے اور ہم نے جنوبی 24پرگنہ کے ایس پی کو تمام رفیوجیوں کی فہرست سونپ دی ہے ۔مقامی پولس نے یہاں آکر ان لوگوں کی انکوائری کی ہے کہ بالغ مردو خواتین کے پاس رفیوجی کارڈ ہیں۔ غازی نے کہا کہ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے روہنگیائی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی مخالفت کی تھی ۔اس لیے ہمیں امید ہے کہ ان روہنگیائی شہریوں کے ساتھ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی ہمدردی کا معاملہ کریں گی ۔ایک روہنگیائی رفیوجی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ہے کہ میرے والد اوربھائی کہاں ہیں ۔بنگلہ دیش پہنچے کے بعدہم لوگ بچھڑ گئے تھے ۔ہم نے انہیں تلاش نے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے۔میں یہاں یومیہ مزدوری کررہا ہوں ۔اگر ہم واپس اپنے ملک گئے تو ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ ہمار ا قتل نہ کردے ۔

ان روہنگیائی شہریوں کی مدد کیلئے مغربی بنگال کی مختلف تنظیموں اور اداروں نے پیش کش کی ہے ۔ایک مقامی مسجد کے امام مولانا مشفق الرحمن کہتے ہیں کہ کچھ روہنگیائی بچوں نے پڑھائی شروع کردیا ہے ۔مجھے امید ہے کہ دیگر بچے بھی یہاں آکر تعلیم حاصل کریں گے ۔

نوٹ: یہ نیوز، نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو نے جاری کی ہے۔

 

Loading...