بنگلہ دیش کی انتہا پسند تنظیموں کو مغربی بنگال میں دی جا رہی پناہ: روپا گنگولی کا الزام

تین طلاق کے تنازعے کو حیران کن بتاتے ہوئے راجیہ سبھا ایم پی روپا گنگولی نے طلاق معاملے میں دستور ہند میں مسلم خواتین کو انصاف ملنے کی ضرورت پر زور دیا۔

Oct 26, 2016 10:32 AM IST | Updated on: Oct 26, 2016 10:33 AM IST
بنگلہ دیش کی انتہا پسند تنظیموں کو مغربی بنگال میں دی جا رہی پناہ: روپا گنگولی کا الزام

کولکاتہ۔ مغربی بنگال کے نئی ہٹّی کے حاجی نگر میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد جہاں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ریاست میں بڑھتے تشدد کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار بتایا ہے اورفرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے پولیس محکمہ کو سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے وہیں  بی جے پی نے اس معاملے میں انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر انتہا پسند تنظیموں کے تئیں نرم رویہ رکھنے کا الزام لگایا ۔ دوسری طرف، تین طلاق کے  تنازعے کو حیران کن بتاتے ہوئے راجیہ سبھا ایم پی روپا گنگولی نے طلاق معاملے میں دستور ہند میں مسلم خواتین کو انصاف ملنے کی ضرورت پر زور دیا۔   ای ٹی وی سے بات کرتے ہوئے روپا گنگولی نے  شرعی قوانین سے الگ ہٹ کر دستور ہند میں خواتین کو آواز اٹھانے کی گنجائش نکالے جانے پر زور دیا۔  انہوں نے کہا کے اگر کوئی شرعی قوانین پرعمل کرتا ہے تو اس کا احترام ہونا چاہئے تاہم اگر کوئی دستور ہند کے تحت آواز اٹھائے تو اسے بھی حق ملنا چاہئے ۔

بنگلہ دیش کی انتہا پسند تنظیموں کو ریاست میں پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے  مغربی بنگال میں بڑھتے تشدد کے لئے ترنمول کانگریس کو ذمہ دار بتایا۔ ایم پی روپا گنگولی نے سیاسی جماعتوں پر مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مسلمانوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے آگے انے کی اپیل کی ۔ بی جے پی نے یونیفارم سیول کوڈ کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کو افسوسناک بتاتے ہوئے اس معاملے میں وزیر اعلی ممتا بنرجی کو بھی اپنا موقف سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا ۔  بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے پروگرام میں شرکت کے لئے گئیں روپا گنگولی نے بنگلہ دیش دورے کو اہم بتاتے ہوئے بنگال و بنگلہ دیش کے مابین ریل سروس کے بہتر ہونے کی امید جتائی۔

Loading...

Loading...