مغربی بنگال پنچایت انتخابات: بھارتیہ جنتا پارٹی کو سپریم کورٹ سے جھٹکا

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں آزادانہ اور منصفانہ پنچایت انتخابات کرانے کے معاملہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی یونٹ کی جانب سے دائر درخواست پر مداخلت کرنے سے آج انکار کر دیا۔

Apr 09, 2018 12:33 PM IST | Updated on: Apr 09, 2018 12:33 PM IST
مغربی بنگال پنچایت انتخابات: بھارتیہ جنتا پارٹی کو سپریم کورٹ سے جھٹکا

وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدرامت شاہ: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں آزادانہ اور منصفانہ پنچایت انتخابات کرانے کے معاملہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی یونٹ کی جانب سے دائر درخواست پر مداخلت کرنے سے آج انکار کر دیا۔ جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس ابھے منوہر سپرے کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت نہیں کرے گی۔ عدالت عظمی نے اگرچہ درخواست گزار کو اپنی شکایت لے کر ریاستی الیکشن کمیشن کے سامنے جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے گزشتہ جمعہ کو تمام متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا اور حکم کے لئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔

گزشتہ سماعت کے دوران ریاستی بی جے پی کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی نے دلیل دی تھی کہ ترنمول کانگریس کارکن پنچایت انتخابات کے لیے بی جے پی امیدواروں کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روک رہے ہیں۔ کارکنوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ایسا لگتا ہے کہ حکمراں پارٹی کے کارکن بی جے پی کارکنوں کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کے لئے منصوبہ بند تشدد کا ماحول بنا رہے ہیں، لیکن مغربی بنگال حکومت کی جانب سے پیش سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے ان دلیلوں کی پرزور مخالفت کی۔

خیال رہے کہ پنچایت انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا آج آخری دن ہے۔

درخواست گزار نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی تعیناتی اور آن لائن نامزدگی کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایات دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

Loading...

Loading...