سخت سیکورٹی کے درمیان مغربی بنگال ریاستی اسمبلی کے پانچویں مرحلے کے الیکشن کیلئے ڈالے جا رہے ہیں ووٹ

کلکتہ۔ مغربی بنگال ریاستی اسمبلی کے پانچویں مرحلے کے انتخابات کیلئے تین اضلاع جنوبی 24 پرگنہ، جنوبی کلکتہ اور ہگلی کی 53 سیٹوں پر آج صبح 7بجے سے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

Apr 30, 2016 08:01 AM IST | Updated on: Apr 30, 2016 08:02 AM IST
سخت سیکورٹی کے درمیان مغربی بنگال ریاستی اسمبلی کے پانچویں مرحلے کے الیکشن کیلئے ڈالے جا رہے ہیں ووٹ

کلکتہ۔ مغربی بنگال ریاستی اسمبلی کے پانچویں مرحلے کے انتخابات کیلئے تین اضلاع جنوبی 24 پرگنہ، جنوبی کلکتہ اور ہگلی کی 53 سیٹوں پر آج  صبح 7بجے سے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ یہ ووٹنگ شام 6بجے تک  ہوگی۔ 349 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ ادھر، پانچویں مرحلے کے اس اہم انتخابات میں الیکشن کمیشن حفاظت کے معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا ۔کمیشن نے ووٹنگ سے پہلے مجرمانہ شبیہ والوں کو غیر ضمانتی دفعات میں گرفتار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کل رات بھوانی پور اورقصبہ علاقے سے نصف درجن سے زیادہ سماج دشمن عناصر کو حراست میں لیا گیا ہے یہی نہیں، سیاسی جماعتوں سے ملی شکایات کے بعد کمیشن نے پولیس کو محلہ کلبوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی سخت ہدایت دی ہے۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت کئی ہیوی ویٹ امیدوار انتخابات کے پانچویں مرحلے میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ممتا بنرجی بھوانی پور اسمبلی حلقہ سے انتخابی میدان میں ہیں ان کے خلاف بائیں محاذ حمایت کانگریس کی امیدوار دیپا داس منشی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے چندر کمار بوس بی جے پی کی جانب سے میدان میں ہیں۔ یہاں سخت مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ کلکتہ کے میئر شوبھن چٹرجی بیہلا مشرق سے پھر انتخابی میدان میں ہیں۔ وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی بیہلا مغرب سے، رہائش اور نوجوانوں کے امور کے وزیر اروپ بسواس ٹالی گنج سے، شہری ترقی کے وزیر فرہاد حکیم کلکتہ پورٹ سے، حکمراں پارٹی کے چیف وہپ شوبھن دیو چٹوپادھیائے راس بہاری سے، وزیربجلی منیش گپتا جادب پور سے، پنچایت وزیر سبرتو مکھرجی بالی گنج سے، سی پی ایم ریاستی سیکریٹ کے رکن سجن چکرورتی جادب پور سے، رابن دیو سنگور سے قسمت آزما رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کارٹون بنا کر سرخیوں میں آئے جادب پور یونیورسٹی کے پروفیسر امبی کیش مہاپاترا بیہالا مشرق سے انتخابی میدان میں ہیں۔

160جنوبی 24 پرگنہ کے گوسابا (ایس سی)، بسنتی (ایس سی)، کلتولی (ایس سی)، پاتھرپرتیما،کاکدیپ‘ ساگر ‘ کلپی‘ رائے دیگھی ‘ مندر بازار ‘ (ایس سی)، جے نگر (ایس سی)، باروئی پور مشرق (ایس سی)، کیننگ مغرب (ایس سی) ، کیننگ مشرق ‘ باروئی پور مغرب، موگراہاٹ مشرق (ایس سی)، موگراہاٹ مغرب، ڈائمنڈ ہاربر، فالتا، سات گچھیا، وشنوپور (ایس سی)، سونارپور جنوب، بھانگڑ، سونارپور شمال، مہیش تلہ، بج۔بج

جنوبی کلکتہ کے قصبہ ‘ جادب پور ‘ ٹالی گنج بیہلامشرق ‘ بیہلا مغرب، مٹیابرج، کلکتہ پورٹ، بھوانی پور، راس بہاری ، بالی گنج اور ہگلی ضلع کے اترپاڑا، شری رامپور، چاپدانی، سنگور، چندن نگر، چوچڑا، بالاگڑھ (ایس سی)، پنڈوا،ادی سپتو گرام،چنڈی تلہ، جنگی پاڑا، ہری پال، دھنیاکھالی (ایس سی)، تارکیشور، پرسرا، آرام باغ (ایس سی)، گوگھاٹ (ایس سی)اور کھاناکول شامل ہیں ۔ ۔ادھر ریاست کے داخلہ سیکرٹری باسودیو بنرجی، ڈی جی پی جی ایم پی ریڈی اور کلکتہکے پولیس کمشنر سومین مترا کے ساتھ ملاقات کی اجلاس میں کمیشن نے کلبوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی۔

Loading...

کمیشن ذرائع کے مطابق، مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے پاس محلہ کلبوں کے کردار پر سوال کھڑے کئے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت نے ریاست بھر کے کلبوں میں روپے بانٹے تھے اب ان ہی کلبوں کے اراکین کو ترنمول امیدواروں کے حق میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے پابند کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے کلبوں کا کردار انتخابات کے دوران اہم ہو گیا ہے۔ کلب کے ارکان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے

تیس اپریل کو پانچویں مرحلے اور 5مئی کو آخری مرحلے کا الیکشن ہے۔ کمیشن نے جن علاقوں میں انتخابات ہے، وہاں 48 گھنٹے پہلے ہی دفعہ 144 سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ خاص کر گروپ میں موٹر سائیکل چلانے والوں پر سختی برتنے کو کہا گیا ہے کسی ضروری کام کے بغیر علاقے میں آنے والے موٹر سائیکل سواروں کو کھدیڑ کر بھگانے کے لیے کہا گیا ہے۔ اکادکاتشدد کے درمیان سخت سیکورٹی میں اب تک چار مرحلوں میں اسمبلی کی 294 سیٹوں میں 216 پر پولنگ ہو چکی ہے۔ چھٹے اور آخری مرحلے میں 25 سیٹوں کیلئے ووٹنگ 5مئی کو ہوگی جبکہ انتخابات کے نتائج 19 مئی کو آئیں گے۔

Loading...