مغربی بنگال اسمبلی کی 102سیٹوں پر مسلم ووٹرس ہی سیاسی جماعتوں کی جیت یا ہار کا کریں گے فیصلہ

کلکتہ۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹرس سیاسی جماعتوں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہین۔

Apr 05, 2016 05:48 PM IST | Updated on: Apr 05, 2016 05:48 PM IST
مغربی بنگال اسمبلی کی 102سیٹوں پر مسلم ووٹرس ہی سیاسی جماعتوں کی جیت یا ہار کا کریں گے فیصلہ

کلکتہ۔  مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹرس سیاسی جماعتوں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں ،ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 28فیصد کے قریب ہے اور ہندوستان میں یہ تیسری سب سے بڑی (2.47کروڑ)مسلم آبادی ہے ۔ایسے میں تمام سیاسی جماعتیں مسلم ووٹ کے حصول کیلئے ان دنوں سرگرداں ہے اور ان مسلم ووٹ کو اپنے خیمے میں لانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ مسلم ووٹرس 294اسمبلی حلقوں میں سے 102اسمبلی حلقوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ،کانگریس اور بایاں محاذ کے درمیان انتخابی تال میل نے مسلم ووٹوں کے حصول کی جنگ مزید دلچسپ بنادیا ہے ۔ریاست میں 46اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد 50فیصد سے زاید ہے ، جب کہ 16اسمبلی حلقے میں مسلم ووٹ کی شرح 40فیصد سے 50فیصد کے قریب ہے ، 33اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹوں کی شرح 30فیصد سے 40فیصد کے درمیان ہے ۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست کے ایک تہائی سیٹوں میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے مسلم ووٹرس سب سے اہم فیکٹر ہے ۔جب کہ دیگر 50اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹ کی تعداد 20فیصد سے 30فیصد کے درمیان ہے ۔

دو ہزار چودہ میں بی جے پی کے ووٹ فیصد میں اچانک اضافہ کے بعد مسلم ووٹوں کی اہمیت مزید دو چند ہوگئی ہے ۔لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 17فیصد ووٹ حاصل کیا تھا۔ایسے 1970کے بعد ریاست میں مسلم ووٹرس روایتی طور پر بایاں محاذ کے ووٹ بینک تھے ۔مگر 2006میں سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بنگال کے مسلمانوں کی حالت زار کو دلتوں سے بھی بد تر بتانے کے بعد مسلم ووٹرس نے بایاں محاذ سے منھ موڑ لیا اور اس کی وجہ سے بایاں محاذ کا 34سالہ دور اقتدار ختم ہوگیا ہے ۔2006کے اسمبلی انتخابات میں بایاں محاذ کو 56فیصد مسلم ووٹ ملے اس کی وجہ سے اسے 294سیٹوں میں 233سیٹوں پر کامیابی ملی ۔2009لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ا ور ترنمول کانگریس اتحاد کو 58فیصد مسلم ووٹ ملے جس کی وجہ سے 42لو ک سبھاکی سیٹوں میں سے 26سیٹوں پر اس اتحاد کو کامیابی ملی ۔2011کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس اور کانگریس اتحاد کو 50فیصد مسلم ووٹ ملے جس کے نتیجے میں اس اتحاد کو 294سیٹوں میں 227سیٹوں پر کامیابی ملی ۔2014کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور ترنمول کانگریس علاحدہ علاحدہ انتخابات میں حصہ لیا مگر مسلم ووٹروں کی اکثریت ممتا بنرجی کے ساتھ رہی جس کی وجہ سے 42میں سے 34سیٹوں پر ترنمول کانگریس کو کامیابی ملی ۔

’سنٹر فاراسٹڈی آف ڈیولپمنٹ سوسائٹی سروے‘کے مطابق 2009کے انتخابات سے ہی اقلیتی طبقے میں بایاں محاذ کا آدھار کم ہوتا چلا گیا ہے اور صرف 36فیصد مسلم ووٹرس نے ہی انہیں ووٹ دیا اور ان سے کہیں زیادہ ممتا بنرجی کو مسلم ووٹ ملا۔گزشتہ چار انتخابات سے وہ سیٹیں جہاں مسلم ووٹرس فیصلہ کن انداز میں ہے وہاں کی 39فیصد سیٹوں پر ترنمول کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔جب کہ بایاں محاذ کی  کامیابی کی شرح 31فیصد، کانگریس 27فیصد ۔جب کہ دیگر جماعت کو تین فیصد اور بی جے پی کو ایک فیصد ووٹ کامیابی ملی ہے ۔2014کے انتخاب میں ترنمول کانگریس نے 102مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں سے 54سیٹوں پر برتری قائم کی تھی ۔جب کہ بایاں محاذ کو محض 19حلقوں میں برتری ملی جب کہ 26اسمبلی حلقوں میں کانگریس کو برتریت ملی ۔اگر 2014کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور بایاں محاذ مل کر انتخاب لڑتیں تو اس اتحاد کو 63اسمبلی حلقوں میں برتری ملتی ۔  2016میں حالات بدل چکے ہیں ، بایاں محاذ کے تئیں مسلمانوں میں جو بیزاری کی لہر تھی وہ اب کم ہوچکی ہے ، کانگریس اور بایاں محاذ کے درمیان انتخابی تال میل نے پوری سیاسی جنگ کے نقشے کو ہی بدل دیا ہے ۔

Loading...

ممتا بنرجی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کا دل جیتنے کیلئے کچھ اقدامات کیے ہیں جن میں ائمہ و موذن کو تنخواہ، مدرسہ میں زیر تعلیم طالبات کو مفت میں سائیکل، پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک مسلم طلبہ کو اسکالر شپ، اوبی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن (گرچہ اس کو بایاں محاذ کے دور اقتدار میں ہی پاس کردیا گیا تھا)تسلیمہ نسرین کے ڈرامہ کو نشر ہونے سے روک دیا گیا ۔جن علاقوں میں اردو بولنے والوں کی آبادی 10فیصد کے قریب تھی ان علاقوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ۔لوک سبھا انتخابات کے درمیان مودی کے خلاف ممتا بنرجی نے سخت الفاظ استعمال کرکے مسلمانوں کے جذبات کو خوب تسکین بھی کیا۔

Loading...