مغربی بنگال کے شمالی 24پرگنہ کے فساد زدہ علاقے میں بے گھر مسلمانوں کی حالت خستہ

کلکتہ ۔ مغربی بنگال میں حالیہ دنوں میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد سیاست کا بازار گرم ہے ۔

Oct 18, 2016 09:31 PM IST | Updated on: Oct 18, 2016 09:34 PM IST
مغربی بنگال کے شمالی 24پرگنہ کے فساد زدہ علاقے میں بے گھر مسلمانوں کی حالت خستہ

تصویر: انڈین ایکسپریس

کلکتہ ۔ مغربی بنگال میں حالیہ دنوں میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد سیاست کا بازار گرم ہے ۔ایک طرف جہاں انتہا پسند جماعتوں نے ممتا بنرجی پر مسلمانوں کی خوشامد کیلئے ہندوؤں پر مظالم ڈھانے اور سونار بنگلہ کو بنجر زمین میں تبدیل کرنے کا الزام عاید کیا ہے وہیں فسادزدہ علاقوں میں بے گھر ہوئے مسلمانوں میں حکومت کے تئیں شدید ناراضگی ہے ۔

شمالی 24پرگنہ کے حالی میونسپلٹی کے مارواڑی کل اور بلور پارہ میں ہوئے فرقہ وارانہ جھڑپ کی وجہ سے درجنوں افراد بے گھر ہیں ۔ کنگا ندی کے کنارے بلور پارہ جہاں مسلمانوں کی30سے  40گھروں پر مشتمل آبادی ہے وہاں کے باشندے گزشتہ 6دنوں سے بے گھر ہیں اوردہشت کا عالم یہ ہے کہ پولس انتظامیہ بھی ان کو گھر میں داخل ہونے میں مدد نہیں کررہی ہے ۔ بے گھر ہوئے لوگوں نے یو این آئی کو بتایا کہ یوم عاشورہ کے جلوس کے بعد پہلے ان پر حملہ کیا گیا جس میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے، پھر اس کے بعد ان کے گھروں میں لوٹ مار کی گئی، وہ مقامی انتظامیہ ، کونسلر ، ممبر اسمبلی سے مدد کی اپیل کرتے رہے مگر کوئی بھی مدد کرنے کو سامنے نہیں آیا ہے ۔

ایک دن بعد انہیں کچھ مقامی لیڈروں نے جن کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے نے انہیں گھر سے باہر نکلنے میں مدد کی تاہم یہ کہا کہ اگر وہ اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو یہاں سے نکل جائیں ۔اس کے بعد ان کے گھروں کو لوٹ لیا گیا اور بعض گھروں میں آگ لگادی گئی ہے۔

حاجی نگر، مارواڑی کل اور فساد زدہ علاقوں کے مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ یہ فسادات حکمراں جماعت کے لیڈران اورآر ایس ایس و بی جے پی کی ملی بھگت کا نتیجہ ہیں اور جان بوجھ کر یوم عاشورہ کے موقع پر فسادات برپا کیا گیا ۔ حکومت کو پہلے سے ہی اطلاعات تھیں کہ ان علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہونے والی ہے مگر یوم عاشورہ پر پولیس فورسیس کا بندوبست نہیں کیا گیا اور اس کا ہی نتیجہ ہے کہ محرم کے جلوس پر بمباری کی گئی اور اس کے بعد دوکانوں ، گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔ کئی قومی نیوز چینلوں پر دکھلایا جا رہا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں آباد مندر اور ہندوؤں کے گھروں پر حملہ کیا گیا ہے تاہم یواین آئی کے نمائندے کو مقامی لوگوں نے مسلم اکثریتی آبادی میں آباد مندر کو دکھلایا جو بالکل محفوظ تھا۔

Loading...

اسی طرح کچھ مسلم نوجوانوں نے بتایا کہ انہوں نے مندر کی حفاظت کی اور فریق مخالف کی بمباری کے جواب میں مندرپر حملہ کرنے سے نہ صرف روکا بلکہ مسلم نوجوانوں نے حفاظت بھی کی۔ اسی طرح مندر کے سامنے کثیر منزلہ گارمنٹ فیکٹری ہے جہاں درجنوں غیر مسلم ورکرس کام کرتے ہیں انہیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ہریندر سنگھ نامی ایک دوکاندارنے بتایا کہ ان کی دوکان محفوظ ہے اور مسلم لڑکوں کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ تشدد پھیلاکر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ مارواڑی کل میں سابق ڈپٹی چیر مین ارشاد احمد ، ماسٹر نظام الدین نے بتایا کہ وہ یہاں کے مقامی ہندؤں کے ساتھ مل کر امن و امان قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر کچھ باہری طاقتیں فساد برپا کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور ایسے لوگوں کو حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے لیڈروں کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب آج ملی اتحاد پریشد کے جنرل سیکریٹری حاجی عبدا لعزیز اور مولانا نعمت حسین حبیبی ، قمرالدین ملک، امجد انصاری نے فساد زدہ علاقے کا دورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کی ہے ۔ملی اتحاد پریشد جلد ہی اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرے گی ۔ دوسری جانب بی جے پی اور ہندو پریشد اس پورے معاملے کو دوسرا رخ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔وشو ہندو پریشد کے انٹر نیشنل سیکریٹری سریندر جین نے کہا کہ بایاں محاذ کے دور حکومت سے کہیں زیادہ ممتا بنرجی کے دور حکومت میں ہندوؤں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ مسلمانوں کی خوشامد میں ہندوؤں پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے نام پر جہادی قوتیں مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندؤں پر حملے کررہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صرف ہندوؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہے ۔

Loading...