ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

بڑی خبر: ہریانہ میں نجی اسکولوں کے 12.5 لاکھ طلبہ کہاں گئے؟محکمہ تعلیم جتائی یہ بڑی تشویش

نجی اسکولوں کے ذریعہ ہریانہ کے محکمہ تعلیم (Haryana Education Department) میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 28 جون 2021 تک تعلیمی سیشن 2021-22 کے لئے 17.31 لاکھ طلبہ نے داخلہ لیا، جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 29.83 لاکھ تھی۔ ریاست میں 14,500 سرکاری اسکول اور 8,900 نجی اسکول ہیں۔

  • Share this:
بڑی خبر: ہریانہ میں نجی اسکولوں کے 12.5 لاکھ طلبہ کہاں گئے؟محکمہ تعلیم جتائی یہ بڑی تشویش
فائل فوٹو

ہریانہ کے نجی اسکولوں کے 12.5 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے تقریبا تین ماہ بعد موجودہ تعلیمی سیشن میں داخلہ کے لئے پہل نہیں کی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن (Directorate of School Education) نے ضلعی عہدیداروں کو تشویش ظاہر کرتے ہوئے ہدایت جاری کی اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان طلبہ نے شائد اپنا تعلمی سلسلہ منقطع کردیا ہو۔


نجی اسکولوں کے ذریعہ ہریانہ کے محکمہ تعلیم (Haryana Education Department) میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 28 جون 2021 تک تعلیمی سیشن 2021-22 کے لئے 17.31 لاکھ طلبہ نے داخلہ لیا، جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 29.83 لاکھ تھی۔ ریاست میں 14,500 سرکاری اسکول اور 8,900 نجی اسکول ہیں۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


اس ہفتے ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن (Directorate of School Education) نے کہا کہ ’’ 12.51 لاکھ طلبہ جو نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی ایم آئی ایس (انتظامی انفارمیشن سسٹم) اپڈیٹ نہیں ہے۔ اس لیے نجی اسکولوں کے سربراہان / انتظامیہ سے ملاقاتیں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ان 12.51 لاکھ طلبہ کے اعداد و شمار کو تازہ ترین بنایا جاسکے تاکہ ان کے اسکول چھوڑنے کی خدشات کو کم کیا جاسکے‘‘۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ’’شاید ان میں سے کچھ بچوں کو فیسوں کے معاملے پر اسکولوں نے خود اندراج نہیں کرایا ہو اور کچھ سرکاری اسکولوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ دوسرے ایسے طلبہ بھی ہوں گے جو کورونا سے وابستہ لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن موڈ تک رسائی حاصل نہیں کرتے تھے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ مزید برآں کورونا کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے‘‘۔

ہریانہ کے وزیر تعلیم کنور پال گجر (Kanwar Pal Gurjar) نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وہ اس سال اور آخری تعلیمی سیشن میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں بہت بڑا فرق دیکھ کر حیران ہیں۔ ہم اس معاملے کی جانچ کرائیں گے‘‘۔

فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18اردو)۔
فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18اردو)۔


فتح آباد کے ایک گاؤں میں ایک نجی اسکول کے انتظام کے رکن رام مہر نے کہا کہ ’’عام خیال یہ ہے کہ اس سال بھی اسکول نہیں کھلیں گے۔ ان حالات میں نجی اسکولوں کے کچھ طلبہ جاری سیشن کے لئے کسی بھی اسکول میں داخلہ نہیں لیا ہے‘‘۔

فتح آباد ضلع کے گاؤں چوبرہ سے تعلق رکھنے والے مزدور کارکن راجیش چووبارہ نے بتایا کہ ’’وہ بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں جو آمدنی کے نقصان کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے ہیں۔ خاص طور پر تعمیراتی سرگرمیوں میں مصروف مزدوروں کی ایک بڑی تعداد اپنی ملازمت سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کے بچے گھر بیٹھے ہیں‘‘۔

نجی اسکولوں کے مالکان نے بتایا کہ لاپتہ بچوں میں سے کچھ کا تعلق غیر مقامی خاندانوں سے ہے جو کام نہ ہونے کی وجہ سے آبائی علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

فیڈریشن آف پرائیویٹ اسکولوں ’ویلفیئر ایسوسی ایشن‘ (Federation of Private Schools’ Welfare Association) ہریانہ کے صدر کلبھوشن شرما (Kulbhushan Sharma) نے کہا کہ ’’موجودہ قواعد میں یہ واضح صراحت ہے کہ کوئی بھی طالب علم سابقہ ادارے سے اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ (ایس ایل سی) حاصل کیے بغیر کسی نئے اسکول میں داخلہ نہیں لے سکتا ہے۔ سرکاری اسکول طلبہ کو داخلہ دے رہے ہیں اس سے قطع نظر کہ انہوں نے ایس ایل سی حاصل کیا ہے یا نہیں‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 04, 2021 01:33 PM IST