ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

کورونا قہر میں تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے میکپس نے اقلیتی طلبا کے لئے اٹھایا بڑا قدم

مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی کا قیام بھوپال میں 80 کی دہائی میں عمل میں آیاتھا۔ سو سائٹی کے قیام کا مقصد مسلم طلبا کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے اور تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے انہیں اسکالرشپ مہیا کرنا تھا۔ بعد از آں سو سائٹی نے مسلم طلبا کو مفت کیریر گائڈنس دینے کا بھی سلسلہ شروع کیا۔

  • Share this:
کورونا قہر میں تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے میکپس نے اقلیتی طلبا کے لئے اٹھایا بڑا قدم
کورونا قہر میں تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے میکپس نے اقلیتی طلبا کے لئے اٹھایا بڑا قدم

بھوپال۔ کورونا قہر میں عام انسان کی مالی مشکلات میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ عام انسان پر دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ہی مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں عام انسانوں کے ذریعہ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنا کسی خواب سے کم نہیں ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور محدود ہوتے وسائل کے بیچ عام انسان کس طرح زندگی گزار رہا ہے اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے ۔ مشکل کی اس گھڑی میں عام انسانوں کے بچوں کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے  مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سوسائٹی کا اقدام تپتے صحر میں شجر سایہ دار کے مانند نظر آرہا ہے۔


مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی کا قیام بھوپال میں 80 کی دہائی میں عمل میں آیاتھا۔ سو سائٹی کے قیام کا مقصد مسلم طلبا کو تعلیم کے مواقع  فراہم کرنے اور تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے انہیں اسکالرشپ مہیا کرنا تھا۔ بعد از آں سو سائٹی نے مسلم طلبا کو مفت کیریر گائڈنس دینے کا بھی سلسلہ شروع کیا۔ سو سائٹی کے ذریعہ لائبریری بھی قائم کی گئی تاکہ وقت ضرورت طلبا کو مدد دینے کے ساتھ ضرورتمند طلبا اس میں بیٹھ کر مطالعہ بھی کر سکیں ۔کورونا قہر میں جب سو سائٹی نے دیکھا کہ بہت سے ہونہار طلبا نے صرف اس وجہ سے تعلیمی سلسلہ کو منقطع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ مہنگی کتابوں کے مصارف کو برداشت کرسکیں ۔ایسے میں سو سائٹی نے مسلم طلبا کو مفت کتابیں فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ طلبا کا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ ہو اور وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکیں ۔


مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر ظفر حسن کہتے ہیں کہ ہمار مقصد نہ صرف مسلم طلبا بلکہ اقلیتی طلبا کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے ۔ سو سائٹی کے ذریعہ طلبا کو کیریر گائڈنس دینے کے ساتھ انہیں اسکالرشپ مہیا کرنے اور ہونہار طلبا کو انعامات دینے کا بھی سلسلہ جاری ہے ۔ سو سائٹی کے ذریعہ لائبریری بھی پانچ سال پہلے قائم کی گئی تھی جس سے طلبا کو کتابیں مہیا کرنے کے ساتھ  انہیں لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنے کا بھی انتظام کیاگیا تھا  لیکن کورونا قہر میں ہماری ذمہ داریاں اور بڑھ گئی ہیں ۔ حالانکہ کورونا قہر میں مخیر حضرات کے ہاتھ تنگ ہوئے ہیں اس کے باوجودہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بچہ صرف اس لئے تعلیمی  سلسلہ کو منقطع نہ کرے کہ اس کے پاس کتابیں نہیں ہیں ۔ سبھی طلبا سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی کلاس میں ہوں ہمارے پاس آئے ہم انہیں مفت کتابیں فراہم کریں گے۔ جب یہ طلبا پاس ہو جائیں تو وہ کتابوں کو پھینکیں نہیں بلکہ اس کتاب کو کسی دوسرے ضروتمند کو دیدیں تاکہ تعلیم کا سلسلہ جا ری رہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم صرف مسلم طلبا ہی نہیں بلکہ دوسری کمیونٹی طلبا کو بھی کتابیں فراہم کرنے کا کام کررہے ہیں ۔کورونا قہر میں یہ بھی سلسلہ جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا۔


گیارہویں جماعت کی طالبہ نغمہ کہتی ہے کہ ہم نے اپنے والدین کی مفلسی کو دیکھتے ہوئے اب آگے نہیں پڑھنے کا فیصلہ کیاتھا۔ اسکول والے فیس مانگتے ہیں اور اسکول جانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسکول نہ بھی جائیں تب بھی آن لائن پڑھنے کے لئے ہمارے پاس کتاب تو ہونا چاہیئے ۔ہم نے کئی لوگوں سے مدد بھی مانگی لیکن ہر طرف سے مایوسی ہی ہاتھ لگی ۔ ایسے میں ہماری ایک دوست نے ہمیں مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سوسائٹی کا پتہ بتایا ۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ یہاں پر آئی تو تھی مگر بہت پر امید نہیں تھی ۔ لیکن یہاں پر منتظمین نے نہ صرف خندہ پیشانی سے ہمارے مسائل کو سنا بلکہ ہمیں تمام کتابیں مفت پڑھنے کے لئے فراہم کیں ۔ ان کے نیک کام کا شکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس لفظ نہیں ہیں ۔بس اللہ سے دعا ہے کہ ایسے اداروں کو خو ب ترقی دے تاکہ کوئی بھی غریب بچہ علم کی روشنی سے محروم نہ رہ سکے۔

مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سوسائٹی کا ادارہ یوں تو مسلم منتظمین کے ذریعہ چلایا جاتا ہے لیکن اس کے دروازے بلا لحاظ قوم و ملت سبھی کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔ یہاں آنے والے ہر ضرورتمند کی ضرورت یکساں طور پر پوری کی جاتی ہے۔ راہل جین کہتے  ہیں کہ سماج میں ہندو اور مسلم کو لیکر جس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں ایسے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مسلم ادارے میں میرے تعلیمی خواب کو پورا کرنے کے لئے لوگ آگے آئینگے ۔ میں اپنےوالد کے ساتھ یہاں آیاتھا ۔مجھ سے سوسائٹی کے لوگوں نے نام پتہ اور اسکول کی تفصیل پوچھنے کے بعد میری ضرورت کی سبھی کتابیں مفت دی ہیں ۔ اب میں اپنی پڑھائی پوری کرسکوں گا اور جب میں پڑھ لوں تو میں بھی کسی دوسرے بھائی کو کتابیں مفت دونگا تاکہ سماج میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 05, 2020 07:07 PM IST