உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXPLAINED: کیاسیول سروس افسران کی طرح وکلا کےلیےبھی آل انڈیاجوڈیشل سروس AIJS امتحان ہوگا؟

    آل انڈیا جوڈیشل سروس قائم کرنے کے لیے ایک پارلیمانی بل لانا پڑے گا-

    آل انڈیا جوڈیشل سروس قائم کرنے کے لیے ایک پارلیمانی بل لانا پڑے گا-

    ہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کے بروقت عدم سماعت اور عدالت میں وکیلوں کی قلت کو آل انڈیا جوڈیشل سروس AIJS کے قیام سے دور کیا جاسکتا ہے۔ وہیں بعض ماہرین کا یہ بھی ماننے ہے کہ اس طرح کے پہل سے عدالتی نظام میں مرکزی حکومت کی دخل اندازی بھی بڑھے گی۔

    • Share this:
      مرکزی حکومت نچلی عدلیہ کے افسروں کی مرکزی سطح پر بھرتی کے لیے آئی اے ایس اور آئی پی ایس کی طرز پر آل انڈیا جوڈیشل سروس All India Judicial Service کے قیام کی کوششوں کی تجدید کر رہی ہے۔ یہ تجویز اگرچہ کئی دہائیوں پرانی ہے، لیکن اب بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

      بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کے بروقت عدم سماعت اور عدالت میں وکیلوں کی قلت کو آل انڈیا جوڈیشل سروس AIJS کے قیام سے دور کیا جاسکتا ہے۔ وہیں بعض ماہرین کا یہ بھی ماننے ہے کہ اس طرح کے پہل سے عدالتی نظام میں مرکزی حکومت کی دخل اندازی بھی بڑھے گی، جس کے بعد عدلیہ میں پیشہ واریت کے بجائے حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کا جذبہ فروغ پاسکتا ہے اور وکلا کو سماعت و مقدمات کی یکسوئی کے دوران حکومتی دباؤ بھی پڑسکتا ہے۔

      اس سال کے اوائل کے اعداد و شمار کے مطابق ضلعی اور ماتحت عدالتوں پر مشتمل نچلی عدلیہ میں 3.8 کروڑ کیسز ہیں
      اس سال کے اوائل کے اعداد و شمار کے مطابق ضلعی اور ماتحت عدالتوں پر مشتمل نچلی عدلیہ میں 3.8 کروڑ کیسز ہیں


      اے آئی جے ایس کس طرح مدد کرے گا؟

      اس سال کے اوائل کے اعداد و شمار کے مطابق ضلعی اور ماتحت عدالتوں پر مشتمل نچلی عدلیہ میں 3.8 کروڑ کیسز ہیں۔ اس طرح ہندوستانی عدلیہ میں زیر التوا 4.4 کروڑ سے زیادہ مقدمات کا یہ بڑا حصہ ہے۔ نچلی عدلیوں میں 22,000 سے زیادہ ججوں منظور شدہ آسامیاں ہیں۔ اس سال جولائی تک جوڈیشل افسران کی آسامیوں میں 5,000 سے زیادہ خالی آسامیوں پر بھی پہل ہوسکتی ہے۔
      رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں جج۔ آبادی کا تناسب فی 10 لاکھ آبادی میں تقریباً 19 ججوں کا ہے حالانکہ لاء کمیشن Law Commission نے سفارش کی تھی کہ یہ فی 10 لاکھ افراد میں کم از کم 50 جج ہونا چاہیے۔ یہ سب آسامیوں کو تیزی سے پُر کرنے اور نچلی عدلیہ میں بھرتیوں کو تیز کرنے کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جس کے لیے مرکز نے طویل عرصے سے اے آئی جے ایس کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔

      مرکزی وزارت قانون Union Law Ministry نے گزشتہ سال مارچ میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ’’مناسب طریقے سے تیار کردہ آل انڈیا جوڈیشل سروس انصاف کی فراہمی کے مجموعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے اور یہ انڈیا میرٹ سلیکشن سسٹم کے تحت مناسب اہلیت کے حامل نئے قانونی ہنر کو شامل کرنے کی راہ ہموار کرے گی‘‘۔

      بعض ماہرین کا یہ بھی ماننے ہے کہ اس طرح کے پہل سے عدالتی نظام میں مرکزی حکومت کی دخل اندازی بھی بڑھے گی
      بعض ماہرین کا یہ بھی ماننے ہے کہ اس طرح کے پہل سے عدالتی نظام میں مرکزی حکومت کی دخل اندازی بھی بڑھے گی


      وزارت نے مزید کہا کہ ایک کل ہند بھرتی نظام معاشرے کے پسماندہ اور محروم طبقوں کو مناسب نمائندگی دے کر سماجی شمولیت کے مسئلے کو بھی حل کرے گا۔ 2018 میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کی نمائندگی 12 فیصد ہے۔ جو 12 ریاستوں میں نچلی عدلیہ کے جج ہیں۔ یہ ہندوستانی آبادی میں او بی سی کے اندازے سے بہت کم ہے۔

      جہاں تک دلتوں اور قبائلیوں کا تعلق ہے، وزارت قانون نے کہا تھا کہ وہ نچلی عدلیہ کے ججوں میں بالترتیب 14 فیصد اور تقریباً 12 فیصد ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق دلت آبادی کا 16 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں جن میں قبائلی برادریوں کا حصہ 9 فیصد سے کچھ کم ہے۔

      یہ کیسے کام کرے گا؟

      ۔ AIJS کے بارے میں وزارت قانون کا کہنا ہے کہ یہ ملک میں بہترین ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے لیے کام کرے گا۔ پہلی بار 1958 میں لاء کمیشن نے تجویز کی تھی اور اس نے 1978 اور 1986 میں پیش کی گئی رپورٹوں میں اس کی ضرورت کا اعادہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی سفارش کی ہے کہ مرکز آل انڈیا جوڈیشل سروس کے قیام کے لیے لاء کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کی فزیبلٹی کا جائزہ لے‘‘۔

      ہندوستانی آئین کا دفعہ 312 میں 'آل انڈیا سروسز' سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ، دیگر چیزوں کے ساتھ ایک یا زیادہ آل انڈیا سروسز کی تشکیل کے لیے فراہم کر سکتی ہے، جس میں ایک آل انڈیا جوڈیشل سروس ہوگی۔

      یہ تجویز اگرچہ کئی دہائیوں پرانی ہے، لیکن اب بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
      یہ تجویز اگرچہ کئی دہائیوں پرانی ہے، لیکن اب بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔


      دفعہ 312 یہ بھی بتاتا ہے کہ اس طرح کی خدمت کی جا سکتی ہے اگر راجیہ سبھا قرارداد کے ذریعہ جس کی تائید میں دو تہائی اراکین سے کم نہ ہو اور ووٹ دیا جائے کہ ایسا کرنا قومی مفاد میں ضروری یا مناسب ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ AIJS کے قیام کے لیے فراہم کردہ کوئی قانون اس آئین کی ترمیم نہیں سمجھا جائے گا۔ جس میں ضلعی جج سے کمتر کوئی عہدہ شامل نہیں ہوگا۔

      اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آل انڈیا جوڈیشل سروس قائم کرنے کے لیے ایک پارلیمانی بل لانا پڑے گا، جہاں بھرتی ممکنہ طور پر دیگر آل انڈیا سروسز جیسے آئی اے ایس، آئی پی ایس وغیرہ کے لیے فارمیٹ کے ساتھ ہو گی، یعنی یہ ایک داخلہ ٹیسٹ ہوگا۔

      اس سے متعلق مسائل کیا ہیں؟

      ماتحت عدالتوں میں ججوں کا انتخاب اور تقرری ہائی کورٹس اور حکومت ان ریاستوں میں کرتی ہے جہاں وہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ وزارت قانون نے کہا ہے کہ جب کہ 2012 میں اے آئی جے ایس کے قیام کے لیے ایک جامع تجویز تیار کی گئی تھی اور اس معاملے کو وزرائے اعلیٰ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سطح پر آگے بڑھایا گیا تھا، یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔
      وزارت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اے آئی جے ایس کی تشکیل کے بارے میں ریاستی حکومتوں اور ہائی کورٹس کے درمیان اختلاف رائے تھا۔ جبکہ کچھ ریاستی حکومتوں اور ہائی کورٹس نے اس تجویز کی حمایت کی، کچھ اے آئی جے ایس کے قیام کے حق میں نہیں تھے جبکہ کچھ دیگر مرکزی حکومت کی طرف سے تیار کردہ تجویز میں تبدیلی چاہتے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: