உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الہ آباد یونیورسٹی میں طلبا اور پولیس کے درمیان ہوئی چھڑپ: جانیں پورا معاملہ

    چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے محکموں میں بڑی تعداد میں نوکریاں موجود ہیں  لیکن اس با وجود خالی جگہوں پر تقرری نہیں کی جا رہی ہے۔

    چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے محکموں میں بڑی تعداد میں نوکریاں موجود ہیں لیکن اس با وجود خالی جگہوں پر تقرری نہیں کی جا رہی ہے۔

    چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے محکموں میں بڑی تعداد میں نوکریاں موجود ہیں لیکن اس با وجود خالی جگہوں پر تقرری نہیں کی جا رہی ہے۔

    • Share this:
    الہ آباد۔ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے این ایس یو آئی کے طلبا اور مقامی پولیس کے درمیان چھڑپ ہو گئی ۔ الہ آباد یونیورسٹی طلبا یونین کے باہر این ایس یو آئی سے وابستہ طلبا نے مرکزی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ احتجاج کے دوران طلبہ نے مرکزی حکومت کا علامتی پتلا نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے طلبا کو احتجاج سے باز رکھنے اور پتلا جلانے سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا ۔
    اس درمیان کافی دیر تک این ایس یو آئی اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی جاری رہی ۔ پولیس کی تمام کوششوں کے باوجود احتجاجی طلبہ مرکزی حکومت کا علاتی پتلا نذر آتش کرنے میں کامیاب رہے ۔ این ایس یو آئی کے ریاستی ترجمان بی ۔ چند شیکھر کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے خلاف پورے ملک میں اس طرح کے احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں ۔
    چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے محکموں میں بڑی تعداد میں نوکریاں موجود ہیں  لیکن اس با وجود خالی جگہوں پر تقرری نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے قابل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے ۔ این ایس یو آئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سرکاری تقرریوں میں بڑے پیمانے پر دھاندی کی جا رہی ہے ۔

    اس پہلے این ایس یو آئی نے الہ آباد یونیورسٹی کیمپس میں واقع ہاسٹلوں میں طلبہ سے ملاقات کی اور ان سے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ یو پی چناؤ سے پہلے پرینکا گاندھی کی غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں سے کانگریس کی ذیلی تنظیموں میں بھی نیا جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: