உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تمل ناڈو کے بعد اب مہاراشٹر میں NEET کو ختم کرنے کامطالبہ، کیا اب نیٹ کی قومی حیثیت ختم ہوجائے گی؟

    NEET UG 2021 :نیٹ امتحان کو ختم کرنے کی مانگ کی جارہی ہے

    NEET UG 2021 :نیٹ امتحان کو ختم کرنے کی مانگ کی جارہی ہے

    ریاست نے ایک رپورٹ بھی جاری کی جس میں روشنی ڈالی گئی کہ NEET کی وجہ سے صحت کے بنیادی ڈھانچے پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اس میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ جو لوگ کوچنگ لیتے ہیں وہ امیر گھرانوں کے طلبا ہوتے ہیں

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      تمل ناڈو حکومت کی جانب سے مرکزی میڈیکل داخلہ امتحان نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس (NEET) کے نفاذ کے سماجی اور معاشی اثرات کو اجاگر کرنے والی ایک رپورٹ جاری کی گئی۔ جس کے بعد مہاراشٹر سمیت دیگر ریاستوں نے بھی NEET کو ختم کرنے کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے ریاست میں مقیم طلبا کے لیے NEET کو ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔

      تمل ناڈو نے حال ہی میں اسمبلی میں ایک بل منظور کیا ہے جس میں ریاست میں مقیم طلبا کو مرکزی امتحان سے چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیٹ کو ختم کرنے کے بل کی تجویز میں بتایا گیا کہ نیٹ نے معاشرے کے امیر اور اشرافیہ طبقات کی حمایت کی ہے نہ کہ کمزور طبقات کی۔ جو تمل ناڈو اسمبلی میں منظور کی گئی۔

      فائل فوٹو۔۔
      فائل فوٹو۔۔


      ریاست نے ایک رپورٹ بھی جاری کی جس میں روشنی ڈالی گئی کہ NEET کی وجہ سے صحت کے بنیادی ڈھانچے پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اس میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ جو لوگ کوچنگ لیتے ہیں وہ امیر گھرانوں کے طلبا ہوتے ہیں جو داخلہ امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ دیہی اور شہری غریب گھرانوں کے لوگ نقصان میں ہوتے ہیں۔

      پٹولے نے اپنے خط میں کہا کہ تمل ناڈو کی طرح مہاراشٹر کو بھی 12 ویں اسکور کی بنیاد پر میڈیکل کالجوں میں داخلہ دینے پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے حال ہی میں منعقدہ NEET میں خامیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ طلبا کے لیے اپنے NEET اسکور پر غور کرنا ناانصافی ہو گی کیونکہ میڈیکل داخلہ سی بی ایس ای ، سی آئی ایس سی ای جیسے سینٹرل بورڈز کی طرف جھکا ہوا ہے۔

      فی الحال NEET ہندوستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا واحد گیٹ وے ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: