உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Aligarh مسلم یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ ہندی میں ہوگا مضمون نویسی کا مقابلہ

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سرسید احمد کی برسی کے موقع پر پہلی بار اردو اور ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا ہے۔جس میں لوگوں کو تحریریں بھیجنے کا موقع ملے گا۔لیکن پہلی بار اے ایم یو میں ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سرسید احمد کی برسی کے موقع پر پہلی بار اردو اور ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا ہے۔جس میں لوگوں کو تحریریں بھیجنے کا موقع ملے گا۔لیکن پہلی بار اے ایم یو میں ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سرسید احمد کی برسی کے موقع پر پہلی بار اردو اور ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا ہے۔جس میں لوگوں کو تحریریں بھیجنے کا موقع ملے گا۔لیکن پہلی بار اے ایم یو میں ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔

    • Share this:
      علی گڑھ: سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو دہلی کے سادات (سید) گھرانے میں پیدا ہوئے، انہیں بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا، 22 سال کی عمر میں والد کی وفات کے بعد خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے تعلیم میں مقام حاصل کیا اور 1830 میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں بطور کلرک کام کرنا شروع کیا۔ 1841 میں انہوں نے مین پوری میں ڈپٹی جج کی اہلیت حاصل کی اور مختلف جگہوں پر عدالتی محکموں میں کام کیا۔ سر سید احمد خان کا27 مارچ 1898 (عمر 80 سال) کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ ان کی یاد میں سرسید مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔

      سرسید احمد کی برسی پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہلی بار ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کرے گی۔جس میں جیتنے والوں کو نقد انعامات بھی دیے جائیں گے، اس مقابلے کو آل انڈیا سر سید مضمون نویسی مقابلہ کا نام دیا گیا ہے جس کی آخری تاریخ 28 فروری ہے۔

      علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سرسید احمد کی برسی کے موقع پر پہلی بار اردو اور ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا ہے۔جس میں لوگوں کو تحریریں بھیجنے کا موقع ملے گا۔لیکن پہلی بار اے ایم یو میں ہندی میں مضمون نویسی کا مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔

      اے ایم یو کے طبیہ کالج کے پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ہندی اور اردو کے طلبہ کو مضمون نویسی کے مقابلے کا موقع دیا گیا ہے جس کی آخری تاریخ 28 فروری رکھی گئی ہے۔ پہلے فاتح کو 10 ہزار روپے، دوسرے فاتح کو 7.5 ہزار روپے اور تیسرے فاتح کو 5 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ باقی چار ٹاپرز کو 2.5 - 2.5 ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: