உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک اور سنگ میل، نیک  کی جانب سے ملا اے پلس پلس گریڈ

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آف لائن موڈ میں کھلنے کی خبر فرضی ، یونیورسٹی نے کہی یہ بات

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آف لائن موڈ میں کھلنے کی خبر فرضی ، یونیورسٹی نے کہی یہ بات

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تعلیم قد مسلسل بڑھتا رہا ہے اور قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک کے اداروں کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا رینکنگ کے معاملے میں گراف اٹھ رہاہے مرکزی یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں جامعہ کو پہلی رینک حاصل ہوئی تھی جبکہ این آئی آر ایف میں بھی اس یونیورسٹی  کو چھٹی رینک حاصل ہے

    • Share this:
    یہ امر باعث افتخار ہے کہ قومی تشخیص اور رسمی منظوری کونسل (نیک) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی)کو اے پلس پلس گریڈ سے نوازا ہے۔ تحقیق،بنیادی ڈھانچہ، آموزشی وسائل،جائزہ،جدت واختراعیت اور تعیین کے سخت طریقہ کار کی پیروی کرتے ہوئے گورنینس جیسے مختلف معیارات کی بنیاد پر ناک کی طرف سے کسی ادارے کو دیا جانے والا یہ اعلی ترین گریڈ ہے۔ نیک ٹیم کا دورہ مؤرخہ چھے دسمبر تا آٹھ دسمبر دوہزاراکیس کے درمیان مکمل ہونے کے بعد اس رینکنگ کا اعلان ہوا ہے۔

    نیک NAAC  کی طرف سے کیا جانے والا یہ دوسرے مرحلے کا جائزہ تھا پہلے مرحلہ کا جائزہ دوہزار پندرہ میں ہوا تھا جس میں جامعہ کو ناک کی طرف سے اے رینک حاصل ہوا تھا۔ یونیورسٹی کو دوہزارہ پندرہ کے پہلے مرحلے کے اسکور تین اعشاریہ صفر نو کے مقابلے میں موجودہ جائزے میں نیک کی طرف سے تین اعشاریہ چھے ایک اسکور ملا ہے۔واضح ہوکہ نیک اے پلس پلس کا گریڈ اس ادارے کو دیتی ہے جو تین اعشاریہ پانچ ایک اسکور حاصل کرے یا اس سے اوپر اسکور حاصل کرے۔



    اس پیش رفت پربجاطور پر نازاں پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ ’یونیورسٹی کی ترقی کی راہ میں یہ سنگ میل اساتذہ،غیر تدریسی عملہ، طلبا اور المنائی کی سخت کاوشوں اور انتہائی جانفشانیوں کو واضح کرتاہے۔



    میں ذاتی طورپران کے تئیں اپنے سپاس کا اظہار کرنا چاہتی ہے اور توقع کرتی ہوں کہ مستقبل میں نہ صرف یہ کہ یہ گریڈ برقرار رہے گا بلکہ تعلیم،تحقیق اور دیگر شعبوں میں بہتر سے بہتر مظاہرے کے لیے ہم لگاتار سخت محنت کرتے رہیں گے۔“۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: