ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

کلاسز شروع ہوتے ہی اس وجہ سے سرکاری اسکولوں میں پرائیویٹ اسکول سے زیادہ نظر آئی طلبا کی تعداد

احتیاطی اقدامات کے ساتھ 11 ماہ بعد اسکولوں میں کلاسز کی شروعات سے طلباء اور طالبات کے چہروں پر خوشی نظر آئی بچوں نے ہفتے میں دو دن کے بجائے سبھی دنوں میں ریگولر کلاس چلانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

  • Share this:
کلاسز شروع ہوتے ہی اس وجہ سے سرکاری اسکولوں میں پرائیویٹ اسکول سے زیادہ نظر آئی طلبا کی تعداد
احتیاطی اقدامات کے ساتھ 11 ماہ بعد اسکولوں میں کلاسز کی شروعات سے طلباء اور طالبات کے چہروں پر خوشی نظر آئی بچوں نے ہفتے میں دو دن کے بجائے سبھی دنوں میں ریگولر کلاس چلانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

اترپردیش: 19 اکتوبر سے اسکولوں میں نوی جماعت سے لیکر 12 وی جماعت تک کی آف لائن کلاسز کی شروعات کے بعد یو پی میں آج سے چھٹی جماعت سے لیکر آٹھویں جماعت تک کی باضابطہ طور پر اسکولوں میں آف لائن کلاسز کی شروعات ہو گئی ہیں۔ تقریباً 11 ماہ بعد آج اسکولوں میں کلاسز شروع ہونے کے بعد جہاں زیادہ تر سرکاری تعلیم گاہوں میں طالب علموں کی خاطر خواہ تعداد نظر آئی وہیں پرائیویٹ اسکولوں میں پہلے روز طالب علموں کی تعداد کم نظر آئی۔ حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات اور شرائط کے ساتھ میرٹھ کے بھی کئی اسکول اور کالجوں میں چھٹی سے لیکر آٹھویں جماعت تک کے بچوں کی آف لائن تعلیم کا سلسلہ آج سے شروع ہو گیا۔


میرٹھ کے اسماعیل گرلز انٹر کالج ، جی آئی سی ، ایس ڈی صدر اور رام سہائے جیسے سرکاری انٹر کالجوں میں بڑی تعداد میں طالب علم کلاس کرنے پہنچ رہے ہیں۔ ان سرکاری اسکولوں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم کی دشواریوں سے پریشان سرکاری اسکول کے ان بچوں کو آف لائن کلاس شروع ہونے کا انتظار تھا اور اب جبکہ یہ انتظار ختم ہوا ہے تو بچے آف لائن تعلیم سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ 1 مارچ سے پرائمری کلاسز کے بھی شروع ہو جانے کے بعد اسکولوں میں نئے تعلیمی سیشن سے پہلے باضابطہ طور پر کلاسز چلنے کی اُمید کی جا رہی ہے۔ احتیاطی اقدامات کے ساتھ 11 ماہ بعد اسکولوں میں کلاسز کی شروعات سے طلباء اور طالبات کے چہروں پر خوشی نظر آئی بچوں نے ہفتے میں دو دن کے بجائے سبھی دنوں میں ریگولر کلاس چلانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔


بچوں کی تعداد کو 50 فیصد تک محدود رکھنے کی گائیڈ لائن کے سبب پرائیویٹ اسکولوں میں ابھی بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم نہیں ہے اسکول لانے لے جانے میں پریشانی کی وجہ سے ان اسکولوں میں طالب علموں کی تعداد ابھی کم ہے۔ وہیں سرکاری اسکولوں میں زیادہ تر آس پاس کے علاقوں سے آنے والے بچوں کے لیے اسکول پہنچنا بڑا مسئلہ نہیں بلکہ آن لائن تعلیم حاصل کرنا پڑا مسئلہ تھا۔ ایسے میں اسکولوں میں کلاسز کی شروعات سے ان بچوں کی بڑی مشکل آسان ہوتی نظر آ رہی ہے ۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 11, 2021 11:52 PM IST