ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

بنگلورو: بزم نسواں نے مسلم لڑکیوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے کی اسکالرشپ تقسیم کی

بنگلورو کی مسلم خواتین کی ایک قدیم تنظیم بزم نسواں سماجی، فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوئی آرہی ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم کے میدان میں آگے لانا بزم کا اہم مقصد ہے۔

  • Share this:
بنگلورو:  بزم نسواں نے مسلم لڑکیوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے کی اسکالرشپ تقسیم کی
بنگلورو کی مسلم خواتین کی ایک قدیم تنظیم بزم نسواں سماجی، فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوئی آرہی ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم کے میدان میں آگے لانا بزم کا اہم مقصد ہے۔

بنگلورو کی مسلم خواتین کی ایک قدیم تنظیم بزم نسواں  سماجی، فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوئی آرہی ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم کے میدان میں آگے لانا بزم کا اہم مقصد ہے۔ معروف سماجی شخصیت حسنی شریف کی قیادت میں بزم نسواں ہر سال غریب اور ضرورت مند مسلم لڑکیوں کو اسکالرشپ فراہم کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہوئی آرہی ہے۔ اس سال بزم نسواں نے 3200 لڑکیوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے کی اسکالرشپ تقسیم کی۔ کورونا وبا کی وجہ سے مختصر سی تقریب منعقد کی گئی۔ پانچ طالبات میں چیک تقسیم کرتے ہوئے سال 2021 کے اسکالرشپ پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ بزم نسواں کی صدر حسنی شریف نے کہا کہ تمام لڑکیوں کو ان کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کی جائے گی۔ 10 سے 15 فروری کے درمیان منتخب طالبات کے بینک کھاتوں میں اسکالرشپ کی رقم ٹرانسفر ہوگی۔  یو سی سے لیکر ماسٹر ڈگری تک کی طالبات میں انکے کورسوں کی فیس کے مطابق اسکالرشپ دی جارہی ہے۔ تین ہزار روپئے سے لیکر 10 ہزار روپئے تک کی اسکالرشپ ہر سال کی طرح اس بار بھی دی جارہی ہے۔

حسنی شریف نے کہا 50 سال قبل قائم بزم نسواں کا مقصد مسلم خواتین کی فلاح و بہبودی کیلئے کام کرنا ہے۔ سب سے بڑا مقصد مسلم لڑکیوں کی تعلیمی ترقی ہے۔ صرف چند لڑکیوں میں اسکالرشپ تقسیم کرتے ہوئے 48 سال قبل ایک چھوٹی سی پہل کی گئی تھی۔ ہر سال اس کار خیر میں اضافہ ہی ہو گیا۔ بزم نسواں اب ہر سال ڈیڑھ کروڑ روپئے کی مالی مدد بطور اسکالرشپ تقسیم کرتی ہوئی آرہی ہے۔ حسنی شریف نے کہا کہ اس سال کورونا وبا کی وجہ سے درخواستیں کچھ کم موصول ہوئیں ہیں۔ کل 3200 لڑکیوں کو ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے کی اسکالرشپ اس مرتبہ دی جارہی ہے۔ گزشتہ سال ڈیڑھ کروڑ روپے کی اسکالرشپ تقریبا 4000 لڑکیوں کو دی گئی تھی۔

حسنی شریف نے کہا کہ قرآن مجید کی پہلی آیت تعلیم کے متعلق ہے۔ مذہب اسلام نے سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ دور میں مسلمان تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ دیگر طبقوں کے مقابلے تعلیم کے شعبہ میں مسلمان کافی پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک عورت تعلیم یافتہ بن جائے تو وہ اپنے پورے کنبہ کو تعلیم یافتہ بنا سکتی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتےہیں کہ کھانہ پینا، کچھ محنت مزدوری کر لینا ہی زندگی ہے۔ لیکن اس سوچ کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ علم حاصل کرنا زندگی کا اولین مقصد ہونا چاہئے۔ حسنی شریف نے کہا کہ دینی اور عصری تعلیم دونوں ضروری ہیں لیکن افسوس کہ مسلمان دینی اور دنیاوی علوم میں پیچھے ہیں۔ اس وجہ سے کئی مسائل میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سے بغیر مذہب کو بھی سمجھنا مشکل ہے۔ اس لئے دینی اور عصری تعلیم حاصل کرتے ہوئے دنیا اور آخرت میں کامیابی پانے کی ہر شخص کو فکر کرنا چاہئے۔

بزم نسواں نے گزشتہ 48 سالوں میں 60 ہزار سے زائد مسلم طالبات کو اسکالرشپ فراہم کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ بزم کی اسکالرشپ حاصل کرنے والی کئی لڑکیاں اعلی عہدوں پر فائز ہوکر مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ کئی لڑکیاں ڈاکٹرز، انجنئیرس بن چکی ہیں۔ بزم زکوۃ اور عطیہ جات کے ذریعہ اسکالرشپ اور چند دیگر فلاحی پروگرام منعقد کرتی ہوئی آرہی ہے۔ اس موقع پر بزم نسواں کی صدر حسنی شریف نے اسکالرشپ کی تقسیم میں رہنمائی فراہم کرنے والے امین مدثر اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 07, 2021 06:46 PM IST