بہار بورڈ نتائج- میٹرک ٹاپرس فہرست میں لڑکیوں کی رہے گی اکثریت، جانیے کون بن رہے ٹاپر

بہار بورڈ نتائج- میٹرک ٹاپرس فہرست میں لڑکیوں کی رہے گی اکثریت، جانیے کون بن رہے ٹاپر (علامتی تصویر)

بہار بورڈ نتائج- میٹرک ٹاپرس فہرست میں لڑکیوں کی رہے گی اکثریت، جانیے کون بن رہے ٹاپر (علامتی تصویر)

میٹرک کے امتحانی نتائج کا اعلان رواں ماہ کی 29 سے 31 تاریخ کے درمیان کیا جائے گا۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Patna, India
  • Share this:
    بہاراسکول ایگزامینیشن بورڈ (بہار بورڈ) کے میٹرک امتحان کا نتیجہ تیار ہوگیا ہے۔ ٹاپرز کی فہرست بنانے کے بعد اتوار تک ان کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ اب یہ بھی طے پایا ہے کہ ٹاپرز کی فہرست میں لڑکیوں کا غلبہ ہے۔ میٹرک کے امتحانی نتائج کا اعلان رواں ماہ کی 29 سے 31 تاریخ کے درمیان کیا جائے گا۔

    اتوار تک کیا گیا ویری فکیشن
    ٹاپر قرار دیے جانے سے پہےل سب سے زیادہ نمبر لانے والے پورے بہار کے امتحان دینے والوں کو بہار بورڈ کے صدر آنند کشور کے احکام پر اتوار تک ویری فکیشن کے لیے بورڈ ہیڈکوارٹر میں طلب کیا گیا تھا۔ انٹر امتحان کے نتائج جاری کرنے کے ساتھ ہی صدر نے ایک انٹرویو میں 31 مارچ تک نتائج جاری کرنے کے نظریے سے تیاری کرانے کی بات کہی تھی۔

    خوشخطی کی تصدیق ہو گئی
    تقریباً 250 امتحان دینے والوں میں سے ٹاپر قرار دیا جائے گا۔ اس میں کوئی فرضی ٹاپر نہیں بن پائے ، اس کے لیے گزشتہ ہفتے اتوار تک سب سے زیادہ نمبروں والے میٹرک کے امیدواروں کی جوابی کتابوں سے ہینڈ رائٹنگ کی فزیکل تصدیق کی گئی۔ یعنی لکھنے کے بعد دیکھا گیا کہ امتحان دینے والے نے کسی اور کو تو نہیں بٹھایا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں:


    یہ بھی پڑھیں:

    Bihar Board Results: بہاربورڈ 1ویں کی تینوں اسٹریم کے نتائج جاری، جانئے کتنے طلبا ہوئے پاس

    تین پیمانوں پر اہلیت کی جانچ کی گئی
    کریکٹ، کلیئر اور کانفیڈنٹ۔۔۔ ان تینوں پیمانوں پر ویری فکیشن کیا گیا۔ ویریفکیشن کے دوران سب سے زیادہ نمبر لانے والوں کو باری باری ماہرین کے سامنے بلا کر جانچا گیا کہ وہ سوالوں کے جواب صحیح دے رہے ہیں یا نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جواب دیتے وقت کلیئرٹی ہے یا نہیں، مطلب کنفیوژ یا اندازاً تو نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا گیا کہ امتحان کے امیدوار پراعتماد ہیں یا نہیں، مطلب اگر میڈیا کے سامنے آیا تو ہچکچائے تو نہیں۔
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: