ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

بہار میں مدرسوں کے اعلیٰ تعلیم کے نام پر ہورہا ہے مذاق، عالم اور فاضل کے مدرسوں میں نہیں بحال کیا ہے ایک بھی ٹیچر

آپ نے شاید کہیں نہیں سنا ہوگا کی جس ادارہ میں اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو اس ادارہ میں اسے پڑھانے والے ایک بھی ٹیچر بحال نہیں ہو۔ جی ہاں یہ نظارہ بہار کے عالم اور فاضل کے مدرسوں کا ہے۔

  • Share this:
بہار میں مدرسوں کے اعلیٰ تعلیم کے نام پر ہورہا ہے مذاق، عالم اور فاضل کے مدرسوں میں نہیں بحال کیا ہے ایک بھی ٹیچر
بہار

آپ نے شاید کہیں نہیں سنا ہوگا کی جس ادارہ میں اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو اس ادارہ میں اسے پڑھانے والے ایک بھی ٹیچر بحال نہیں ہو۔ جی ہاں یہ نظارہ بہار کے عالم اور فاضل کے مدرسوں کا ہے۔ ریاست میں ایک سو اٹھارہ عالم اور فاضل کے مدرسہ ہیں جہاں ہزاروں طلباء زیر تعلیم ہیں لیکن ان طلباء کو پڑھانے کے نام پر حکومت کی جانب سے ایک بھی ٹیچر کو بحال نہیں کیاگیا ہے۔ اب اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، دراصل مدرسوں میں انٹر تک کے پوسٹ پر بحالی کی منظوری ہے۔


بہار کے اعلیٰ تعلیم کے مدرسوں کا امتحان ریاست کی مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی منعقد کرتی ہے اور طلباء کو یونیورسیٹی کی جانب سے عالم و فاضل کی ڈگڑی دی جاتی ہے۔ مدرسوں کے اعلیٰ تعلیم کے اکیڈمک ذمہ داری مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی کے پاس ہے جبکہ ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے پاس ہے۔ عالم اور فاضل کے طلباء کا مستقبل مدرسہ بورڈ اور یونیورسیٹٰی کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔


یونیورسیٹٰی یہ بات کہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیتی ہے کی ٹیچروں کی بحال کا معاملہ مدرسہ بورڈ کے سبب نہیں ہوتا ہے جبکہ مدرسہ بورڈ کا کہنا ہیکہ عالم اور فاضل کا معاملہ یونیورسیٹی کے پاس ہے اس میں بورڈ کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے۔مدرسوں میں آخری پوسٹ انٹر تک کا منظور ہے۔ اب سوال ہیکہ مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی جن مدرسوں کا امتحان لیتی ہے اور جن مدرسوں کے سبب یونیورسیٹی کا وجود قائم ہے ان مدرسوں میں اساتزہ کو بحالی کرنے کے سلسلے میں یونیورسیٹی سنجیدہ کیوں نہیں ہے اور اگر یونیورسیٹی سنجیدہ ہے تو حکومت کیوں اس معاملہ میں لاپرواہی کررہی ہے۔ کیا عالم اور فاضل کے طلباء کا مستقبل کوئ معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔


بغیر ٹیچروں کی بحالی کے ریاست میں عالم اور فاضل کے مدرسہ چل رہے ہیں اور وہاں طلباء بھی پڑھ رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہیکہ بغیر پڑھے طلباء مولانا مظہرالحق یونیورسیٹی کے زیر اہتمام امتحان دیتے ہیں اور یونیورسیٹی طلباء کو ڈگڑی تقسیم کرتی ہے۔ جانکاروں نے نتیش کمار سے یہ سوال پوچھا ہیکہ کیا ایسی صورتحال میں مدرسوں کا تعلیمی میعار بلند ہوسکتا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Aug 16, 2020 09:44 PM IST