உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Budget 2022: کووڈ سے شدید متاثر ہوا تعلیمی شعبہ، تعلیمی انفرسٹکچر پر زیادہ بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ

    قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 پر بجٹ میں کیا ہوگا خاص

    قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 پر بجٹ میں کیا ہوگا خاص

    ماہرین نے کہا کہ تعلیم میں ٹیکس ریلیف اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر توجہ کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے کئی لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ کیا حکومت آئندہ بجٹ 2022 میں شعبہ تعلیم کے لیے مختص رقم میں اضافہ کرے گی؟

    • Share this:
      گزشتہ سال شعبہ تعلیم میں سب سے نمایاں پیش رفت قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کا اعلان رہی۔ جس میں ملک کے نظام تعلیمی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت موجودہ ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے۔ تاہم ماہرین نے کہا کہ تعلیم میں ٹیکس ریلیف اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر توجہ کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے کئی لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ کیا حکومت آئندہ بجٹ 2022 میں شعبہ تعلیم کے لیے مختص رقم میں اضافہ کرے گی؟

      ہمیں جوابات کے لیے یکم فروری تک انتظار کرنا پڑے گا جب وزیر خزانہ نرملا سیتارامن (Nirmala Sitharaman) اپنا چوتھا مرکزی بجٹ پیش کریں گی۔ دریں اثنا ہم نے دو ماہرین سے بات کی اور یہاں کچھ ایسے اقدامات ہیں جن کی وہ اس سال کے مرکزی بجٹ سے توقع کرتے ہیں۔ کمپنی ڈیلوئٹ ٹچ توہماتسو انڈیا ایل ایل پی کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور ماہر اقتصادیات رمکی مزومدار نے کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) نے یقینی طور پر تعلیمی انفراسٹرکچر میں موجود خلا کو اجاگر کیا ہے جسے پر از سر نو کام کرنے کی ضرورت ہے۔

      پسماندہ طلبہ کے لیے منصوبہ بندی: 

      رمکی مزومدار کا کہنا ہے کہ کورونا بحران کے دوران کئی تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے پسماندہ خاندانوں کے طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت کو ان متاثرہ بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے آگے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

      قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کا گزشتہ سال اعلان کیا گیا تھا۔ اس کو بجٹ میں مزید تقویت دی گئی تھی جس میں قومی تعلیمی پالیسی کے تحت 15,000 سے زائد اسکولز کو قابلیت کے لحاظ سے مضبوط کیا گیا تھا تاکہ وہ مثالی اسکول بن سکیں، جو اس کے بعد دوسرے اسکولز کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ یہ اقدام ایڈ ٹیک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ان اسکولز میں ای لرننگ اور بلینڈڈ لرننگ کو ادارہ جاتی شکل دے کر 21 ویں صدی کے نئے دور کے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے تعلیمی شعبے کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کو مزید قابل بنایا جائے گا۔

      کچھ اسٹیک ہولڈرز چاہتے ہیں کہ مرکز تعلیم کے شعبے کو دی جانے والی مختص رقم میں اضافہ کرے۔ کمپنی Deloitte کے شراکت دار اور ماہر تعلیم و ہنر کملیش ویاس نے کہا کہ حکومت کو کیپیکس اور اوپیکس (capex and opex) دونوں لحاظ سے فنڈ دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن، تحقیقی سہولیات، فزیکل انفراسٹرکچر، اور اثاثوں کی دیکھ بھال میں بڑے بجٹ کی ضرورت ہے۔

      شعبہ تعلیم پر عوامی سرمایہ کاری:

      قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP) نے تعلیمی اصلاحات سے وابستگی کا مظاہرہ کیا اور تعلیم پر عوامی سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 6 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی توثیق کی جیسا کہ 1968 میں این ای پی میں پہلے تجویز کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکز کو تعلیمی بجٹ کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

      عوامی سرمایہ کاری کو جلد از جلد جی ڈی پی کے 3 سے 6 فیصد تک بڑھانا کی ضرورت ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: