உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    18 لاکھ طلبہ کا انتظار ختم ، سی بی ایس ای بورڈ نے کیا 10 ویں کا ریزلٹ جاری

    18 لاکھ طلبہ کا انتظار ختم ، سی بی ایس ای بورڈ نے کیا 10 ویں کا ریزلٹ جاری

    18 لاکھ طلبہ کا انتظار ختم ، سی بی ایس ای بورڈ نے کیا 10 ویں کا ریزلٹ جاری

    سی بی ایس ای بورڈ کے دسویں کا ریزلٹ بدھ کو جاری کردیا گیا ۔ اسی کے ساتھ ہی ریزلٹ کا انتظار کر رہے 18 لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات کا طویل عرصہ سے چلا آرہا انتظار بھی ختم ہوگیا ۔

    • Share this:
      CBSE Board 10th Results 2020 : سی بی ایس ای بورڈ کے دسویں کا ریزلٹ بدھ کو جاری کردیا گیا ۔ اسی کے ساتھ ہی 18 لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات کا طویل عرصہ سے جاری انتظار بھی ختم ہوگیا ۔ اس سال سی بی ایس ای دسویں جماعت میں طلبہ کے پاس ہونے کی شرح 91.46 فیصد رہی ۔ اس سال امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ اپنا ریزلٹ آفیشیل ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں ۔ سی بی ایس ای نے گزشتہ پیر کو ہی 12 ویں کے نتائج بھی جاری کئے تھے ، جس میں 88.87  فیصد طلبہ پاس ہوئے تھے ۔ اس مرتبہ بورڈ نے میرٹ لسٹ جاری نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

      ریزلٹ کی خاص باتیں

      18 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے امتحانات میں شرکت کی ۔

      91.46  فیصد طلبہ پاس ہوئے ۔

      لڑکیوں کے پاس ہونے کی شرح 93.31 فیصد رہی ۔

      لڑکوں کے پاس ہونے کی شرح 90.14 فیصد رہی ۔

      میرٹ لسٹ جاری نہیں کی گئی ہے ۔

      اس بنیاد پر جاری کیا گیا ریزلٹ

      جو طلبہ تین سے زیادہ سبجیکٹ کے امتحانات میں شریک ہوچکے ہیں ، ان کے ریزلٹ تین بیسٹ پرفارمنگ سبجیکٹ کی بنیاد پر اعلان کئے گئے ہیں ۔ یعنی بیسٹ آفر تھری کی بنیاد پر ایوریج نمبرات دئے گئے ہیں ۔

      جن طلبہ نے تین سبجیکٹ کے ہی امتحانات دئے ہیں ان کے ریزلٹ دو بیسٹ پرفارمنگ سبجیکٹ کی بنیاد پر اعلان کئے گئے ہیں ۔ یعنی باقی سبجیکٹ میں نمبرات بیسٹ آف ٹو کی بنیاد پر دئے گئے ہیں ۔

      ایسے حاصل کریں مارکس شیٹ

      دسویں کے نتائج اعلان ہوچکے ہیں ۔ ایسے میں طلبہ اپنی ڈیجیٹل مارکس شیٹ آن لائن ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں ۔ سی بی ایس ای ڈیجی لاکر اور امنگ ایپ سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر مارکس شیٹ سمیت مائیگریشن سرٹیفکیٹ اور پاس سرٹیفکیٹ بھی دے گا ۔ ڈیجی لاکر اکاونٹ کریڈینشیل طلبہ کو سی بی ایس ای کے ساتھ رجسٹرڈ ان کے موبائل نمبر پر ایس ایم ایس کے ذریعہ سے بھیجا جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: