உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Unemployment Rate:جون میں بے روزگاری شرح بڑھ کر ہوئی7.80فیصد:CMIE کا دعویٰ، 1.3 کروڑ روزگار ہوگئے کم

    بڑھتی بے روزگاری کے درمیان آئی ایک اور پرتشویش خبر۔

    بڑھتی بے روزگاری کے درمیان آئی ایک اور پرتشویش خبر۔

    Unemployment Rate: مہیش ویاس نے کہا کہ یہ کمی بنیادی طور پر غیر منظم شعبے میں ہوئی ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ کورونا کی وجہ سے مزدوروں کی نقل مکانی کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

    • Share this:
      CMIE نے ملک میں بے روزگاری کی شرح کو لے کر بڑا دعویٰ کیا ہے۔ سی ایم آئی ای کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.80 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سی ایم آئی ای کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ گزشتہ ماہ زراعت کے شعبے میں 13 ملین لوگ بے روزگار ہوئے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

      اقتصادی تحقیقی ادارہ، سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMIE) کے مطابق، دیہی علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ مئی میں ہندوستان کے دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 7.30 فیصد تھی جو جون میں بڑھ کر 8.03 فیصد ہو گئی۔ دیہی علاقوں کے مقابلے شہری علاقوں میں صورتحال کچھ بہتر ہے۔ یہاں جون میں بے روزگاری کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی میں یہ 7.12 فیصد تھی۔

      CMIE کے منیجنگ ڈائریکٹر مہیش ویاس نے بنا لاک ڈاؤن والے مہینے میں بے روزگاری شرح میں ہوئے اس اضافے کو سب سے زیادہ بتایا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ یہ صورتحال جلد بدل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ روزگار میں کمی بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں ہے۔ ان دنوں دیہاتوں میں کاشتکاری کی سرگرمیاں سست پڑ رہی ہیں۔ مہیش ویاس نے کہا کہ جولائی میں بوائی شروع ہوتے ہی روزگار کے حوالے سے اس صورتحال میں تبدیلی کی پوری امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں 1.3 کروڑ نوکریاں کم ہونے کے باوجود بے روزگاری میں صرف 30 لاکھ کا اضافہ ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Jammu-Kashmir Job Alert:جموں-کشمیر میں اسسٹنٹ پروفیسر سمیت کئی عہدوں پر نکلی نوکریاں

      یہ بھی پڑھیں:
      Navy Agniveer:اگنی ویربھرتیوں میں بیٹیوں کاجوش،بحریہ کیلئے 3دن میں ہی10ہزاردرخواستیں

      مہیش ویاس نے کہا کہ یہ کمی بنیادی طور پر غیر منظم شعبے میں ہوئی ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ کورونا کی وجہ سے مزدوروں کی نقل مکانی کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اسے تشویشناک قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جون 2022 میں تنخواہ دار ملازمین کی 25 لاکھ ملازمتوں میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: