உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    CUETسبھی بورڈوں کے طلبہ کو یکساں موقع فراہم کرے گا-یوجی سی صدر

    common university entrance test (CUET)

    common university entrance test (CUET)

    بہت سی نامور نجی یونیورسٹیوں نے اشارہ کیا ہے کہ وہ بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور CUET کے ذریعے طلباء کو داخلہ دینا چاہتے ہیں۔ بلکہ CUET کے نمبروں کا استعمال لازمی ہو گا اور مرکزی یونیورسٹیاں اپنی کم از کم اہلیت کا معیار خود طے کر سکتی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے چیئرمین جگدیش کمار نے منگل کو کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) اگلے سیشن سے سال میں دو بار کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ (CUET) منعقد کرنے پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ CUET نہ تو بورڈ کے امتحانات کی مطابقت کو ختم کرے گا اور نہ ہی ’کوچنگ کے کلچر‘ کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی بورڈ کے طلباء کو انڈر گریجویٹ کورس کے داخلے کے عمل میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ CUET کو منظم کرنا NTA کی ذمہ داری ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      UP Madarsaمیں طلبا اور اساتذہ کو دیگر دُعاؤں کے ساتھ راشٹریہ گان پڑھنا بھی ہوگا لازمی

      کمار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ CUET کا کام صرف مرکزی یونیورسٹیوں میں داخلوں تک محدود نہیں رہے گا، کیونکہ کئی نامور نجی یونیورسٹیوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ انڈرگریجویٹ کورسز میں داخلے کے لیے مشترکہ داخلہ ٹیسٹ کے اسکور استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      BSEB Matric Result 2022: بہاربورڈ 10thکے 16لاکھ طلبا کے نتائج آج ہونگے جاری، یہاں کریں چیک

      ’ابتدائی طور پر اس سال CUET کا ایک بار انعقاد کیا جائے گا، لیکن NTA آنے والے سیشن سے سال میں کم از کم دو بار امتحان منعقد کرنے پر غور کرے گا۔ داخلہ ٹیسٹ صرف مرکزی یونیورسٹیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں بھی اسے استعمال کریں گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      7th pay commission: مدھیہ پردیش کے سرکاری ملازمین کیلئے بڑا اپڈیٹ! DAمیں ہوا اضافہ

      بہت سی نامور اور مشہور نجی یونیورسٹیوں نے اشارہ کیا ہے کہ وہ بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور CUET کے ذریعے طلباء کو داخلہ دینا چاہتے ہیں۔ بلکہ CUET کے نمبروں کا استعمال لازمی ہو گا اور مرکزی یونیورسٹیاں اپنی کم از کم اہلیت کا معیار خود طے کر سکتی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: