உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پرائیویٹ اسکولوں سےبچوں کابڑے پیمانے پراخراج، دیہی علاقوں میں کئی طلبا آن لائن کلاس محروم

    فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

    فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

    سروے یہ واضح کرتا ہے کہ آن لائن تعلیم کی رسائی بہت محدود ہے۔ شہری اور دیہی تقسیم بالکل واضح ہے، دونوں جگہ حصول تعلیم میں بہت بڑا فرق پایا گیا۔ 24 فیصد شہری طلبا باقاعدگی سے آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ دیہی طلبا کی یہ تعداد محض 8 فیصد ہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ایک نئے سروے کے مطابق کورونا وبا کے ضمن میں اسکولوں کے بند ہونے کی نتیجے میں ملک بھر کے طلبا بالخصوص دیہی علاقوں کے طلبا کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہندوستان میں کل دیہی علاقے کے صرف 8 فیصد طلبا باقاعدگی سے آن لائن پڑھتے ہیں اور 37 فیصد بالکل بھی نہیں پڑھتے۔ جنھیں انٹرنٹ کی سہولت دستیاب ہی نہیں ہے۔

      یہ سروے ان حکومتی دعوؤوں کی بھی نفی کرتا ہے، جس میں کہاجاتا ہے کہ حکومت ہندوستان کے ہر شہری تک انٹرنٹ کی شہولت فراہم کررہی ہے۔ اگر واقعی حکومت سبھی شہریوں تک انٹرنٹ کی فراہمی سے متعلق سنجیدہ ہوتی تو آج دیہی طلبا کی یہ حالت نہیں ہوتی۔

      اس کے علاوہ کورونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کے نتیجے میں نجی اسکولوں سے بہت سے طلبا نکل گئے ہیں۔ نجی اسکولوں میں داخل ہونے والوں میں سے ایک چوتھائی سے زائد بچوں کا سیکھنے کا عمل رکھ سا گیا ہے۔ جس کی وجہ یا تو 17 ماہ سے جاری اسکول لاک ڈاؤن کے دوران افسردہ خاندانی کی تنگ مالی ہے یا آن لائن تعلیم ۔ کیونکہ ان دیہی طلبے کے پاس آن لائن تعلیم کے لیے ذرائع ہی دستیاب نہیں ہے۔

      یہ سروے ماہر معاشیات جین ڈریز ، ریتیکا کھیرا اور محقق وپل پائکرا کی نگرانی میں کیا گیا۔ جو کہ 15 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں یعنی آسام ، بہار ، چندی گڑھ ، دہلی ، گجرات ، ہریانہ ، جھارکھنڈ ، کرناٹک اور مدھیہ میں انجام دیا گیا۔ جو کہ پہلی تا آٹھویں جماعت میں داخل ہونے والے 1400 طلبا کا احاطہ کرتا ہے۔ وہیں مہاراشٹر ، اڈیشہ ، پنجاب ، تمل ناڈو ، اتر پردیش اور مغربی بنگال، دہلی ، جھارکھنڈ ، مہاراشٹر اور اتر پردیش ایسی ریاستیں ہیں، جہاں سے آدھے سے زیادہ طلبا کا سروے کیا گیا۔

      اس سال اگست میں کئے گئے سروے کے نتائج دیہی علاقوں اور شہری بستیوں کے 1400 گھرانوں کے انٹرویوز پر مبنی ہیں جو پسماندہ خاندانوں میں آباد ہیں۔ یہ ایسے خاندان ہیں جو اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجتے ہیں‘‘۔
      رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان نمونے والے گھروں میں سے تقریبا 60 فیصد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور تقریبا 60 فیصد دلت یا آدیواسی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

      فائل فوٹو
      فائل فوٹو


      سروے یہ واضح کرتا ہے کہ آن لائن تعلیم کی رسائی بہت محدود ہے۔ شہری اور دیہی تقسیم بالکل واضح ہے، دونوں جگہ حصول تعلیم میں بہت بڑا فرق پایا گیا۔ 24 فیصد شہری طلبا باقاعدگی سے آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ دیہی طلبا کی یہ تعداد محض 8 فیصد ہی ہے۔

      آن لائن تعلیم کی محدود رسائی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے نمونہ گھرانوں (تقریبا آدھے دیہی علاقوں میں) کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ اسمارٹ فون والے گھروں میں بچوں کے آن لائن سیکھنے کے وسائل تک رسائی کا تناسب شہری علاقوں میں صرف 31 فیصد اور دیہی علاقوں میں 15 فیصد ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسمارٹ فون اکثر کام کرنے والے بالغ استعمال کرتے ہیں ، اور اسکول کے بچوں خصوصا چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ خاص طور پر دیہاتوں میں یہ بھی ہے کہ اسکول آن لائن مطالعہ کا مواد نہیں بھیج رہے تھے یا والدین اس سے واقف نہیں تھے۔

      سروے کیے گئے 1400 بچوں میں سے تقریبا پانچواں حصہ نجی اسکولوں میں زیر تعلیم تھا جب گزشتہ سال مارچ میں اسکول بند ہونا شروع ہوئے تھے۔ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نمونے میں ایک چوتھائی ابتدائی طور پر پرائیویٹ اسکولوں میں داخل ہونے والوں میں سے ہیں۔ جو سرکاری اسکولوں میں داخلے لے چکے ہیں۔ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی والدین فی الحال "ٹرانسفر سرٹیفکیٹ" لینے سے پہلے تمام واجبات کی ادائیگی کے لیے نجی اسکولوں کی شرط پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: