உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں ماہر پینل نےکی چھٹویں تاآٹھویں کلاسیس کے دوبارہ آغازکی سفارش، صرف پچاس فیصدگنجائش ضروری

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    یہ اقدام حال ہی میں ڈی ڈی ایم اے کے ماہر پینل کی ایک جائزہ میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ پینل نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سینئر کلاس کے طلبا کی حاضری میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور تقریباً 95 فیصد اساتذہ اور اسکول کے عملے کو کورونا COVID-19 کے خلاف ویکسین لگائی گئی ہے۔

    • Share this:
      دہلی میں اسکولوں کا دوبارہ آغاز کے سلسلے میں ڈی ڈی ایم اے DDMA کے ذریعہ تشکیل کردہ ایک ماہر پینل نے ایک اہم سفارش پیش کی ہے۔ جس میں دہلی میں 50 فیصد طلبا کی تعداد کے ساتھ چھٹویں تا آٹھویں جماعت کے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کی رائے پیش کی گئی ہے کیونکہ کورونا وائرس کے مقامی ٹرانسمیشن میں اضافے کی کوئی رپورٹ نہیں آئی ہے۔

      یہ اقدام حال ہی میں ڈی ڈی ایم اے کے ماہر پینل کی ایک جائزہ میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ پینل نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سینئر کلاس کے طلبا کی حاضری میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور تقریباً 95 فیصد اساتذہ اور اسکول کے عملے کو کورونا COVID-19 کے خلاف ویکسین لگائی گئی ہے۔

      کورونا وائرس کے مقامی ٹرانسمیشن میں اضافے کی کوئی رپورٹ نہیں آئی ہے۔
      کورونا وائرس کے مقامی ٹرانسمیشن میں اضافے کی کوئی رپورٹ نہیں آئی ہے۔


      دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) کی قومی دارالحکومت میں کورونا COVID-19 کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے 25 ویں میٹنگ 29 ستمبر 2021 کو ہوئی تھی اور منگل کو میٹنگ کے منٹس کا اعلان کیا گیا۔

      اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل Lieutenant Governor Anil Baijal نے میٹنگ کی صدارت کی تھی اور کہا تھا کہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ تہوار کے موسم کے بعد کیا جائے گا۔

      ڈائرکٹر برائے تعلیم نے میٹنگ میں کہا کہ ’’دہلی میں نویں سے بارہویں جماعت کے اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کی وجہ سے کورونا کے مقامی ٹرانسمیشن میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ طلباء کی حاضری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 80 فیصد طلبا حاضر ہورہے ہیں‘‘۔

      ۔29 ستمبر کی میٹنگ میں موجود ماہرین نے یہ بھی رائے دی تھی کہ اگلے دو سے تین مہینے نوراتری، دسہرہ اور دیوالی جیسے تہواروں کے پیش نظر بہت نازک ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: