ہوم » نیوز » No Category

مدھیہ پردیش میں ان لاک کے پہلے مرحلے کا آغاز، اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ

سماجی تنظیم نےاردو کے ساتھ حکومت پر عدم توجہی کا الزام لگایا وہیں وزیر برائے اسکول ایجوکیشن اندر سنگھ پرمار کا کہنا ہے کہ حکومت کو سبھی کا خیال ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں ان لاک کے پہلے مرحلے کا آغاز، اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ
سماجی تنظیم نےاردو کے ساتھ حکومت پر عدم توجہی کا الزام لگایا وہیں وزیر برائے اسکول ایجوکیشن اندر سنگھ پرمار کا کہنا ہے کہ حکومت کو سبھی کا خیال ہے ۔

مدھیہ پردیش میں ان لاک کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوتے ہی اردو اساتذہ کی تقرری کے مطالبہ نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں میٹنگ کا انعقاد کیاگیا اور حکومت سے ریاست کے سبھی اسکولوں میں اردو اساتدہ کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا۔ سماجی تنظیم نےاردو کے ساتھ حکومت پر عدم توجہی کا الزام لگایا وہیں وزیر برائے اسکول ایجوکیشن اندر سنگھ پرمار کا کہنا ہے کہ حکومت کو سبھی کا خیال ہے ۔ مدھیہ پردیش میں دوہزار تین کے بعد سے ابتک کئی پارٹیوں کی حکومتیں بدل چکی ہیں۔ان سیاسی پارٹیوں نے اپنے انتخابی منشور میں اردو اساتذہ کی تقرری کا ذکر تو کیا لیکن جب وہ اقتدار میں آئیں تو انہوں نے وہی کیا جو ابتک اردو کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔


مدھیہ پردیش میں اردو اساتذۃ کی تقرری کے معاملے کو لیکر بھوپال گاندھی نگر میں سوشل ڈسٹنس کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں اردو کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سماجی کارکن ومولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سائٹی کے رکن محمد یاسر کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ افسوس کی بات کیا ہوگی کہ دوہزار تین سے ابتک ریاست میں کئی حکومتیں بدل چکی ہیں لیکن اب تک کسی بھی حکومت نے اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ہے۔


سو سائٹی نے اس معاملے کو لیکر اس سے قبل بھی تحریک چلائی تھی ۔کورونا قہر اور لاک ڈاؤن میں ہماری تحریک سرد ضرور پڑگئی ہے مگر جیسے ہی ان لاک کا عمل شروع کیاگیاہم نے سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر پھر بیداری شروع کردی ہے۔ ہم نے میٹنگ کر کے اپنے مطالبات متعلقہ وزیر کو بھیج دیئے ہیں اگر ریاستی حکومت کے ذریعہ مطالبات پر عمل نہیں کیا جاتا ہےتو اس معاملے کو لیکر مرکزی سطح پر ہم جائیں گے اور تب تک ہماری تحریک جاری رہے گی جب تک اردو کو اس کا حق نہیں مل جاتا ہے ۔ دوہزار تین سے اردو اساتذہ کی تقرری نہیں ہونے سے بہت سے اسکولوں میں اردو کی تدریس کا عمل بند کردیا گیا ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ اردو کی تدریس ویسے ہی جاری کی جائے جیسے اس کی روایت کا حصہ رہاہے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اسکول ایجوکیشن اندر سنگھ پرمار کہتے ہیں کہ جذباتی استحصال کرنا اور سماج کو گمراہ کر کے ووٹ لینا بی جے پی کی روایت کا حصہ نہیں ہے ۔ بی جے پی سب کا ساتھ سب کا وکاس کے مول منتر پر کام کرتی ہے۔ سبھی زبانوں کو اس کا حق ملے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 04, 2021 09:54 PM IST