உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Study in USA: عالمی کریئر کے منازل(Building Global Careers)کوکیسے طے کریں؟

    سُدھا ایم راگھون افزودہ ریلیٹی پروجیکٹ تھیٹ اے آر سے وابستہ تھیں جو کارنیگی میلون یونیورسٹی کے اسکول آف ڈرامہ اور انٹرٹینمنٹ ٹیکنالوجی سینٹر کے مابین اشتراک ہے۔ تصویر بشکریہ سُدھا ایم راگھون ۔(ِSpan Magazine)۔

    سُدھا ایم راگھون افزودہ ریلیٹی پروجیکٹ تھیٹ اے آر سے وابستہ تھیں جو کارنیگی میلون یونیورسٹی کے اسکول آف ڈرامہ اور انٹرٹینمنٹ ٹیکنالوجی سینٹر کے مابین اشتراک ہے۔ تصویر بشکریہ سُدھا ایم راگھون ۔(ِSpan Magazine)۔

    Education is USA:امریکی یونیورسٹیوں میں جدید ترین پروگرام، مختلف ثقافتوں سے تعارف اور رابطہ سازی کے مواقع طلبہ کو عالمی کریئرکے منازل طے کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    • Share this:
      کینڈس یاکونو

      امریکہ میں کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے فائدے بین الاقوامی ڈگری حاصل کرنے سے کہیں زیادہ  ہیں۔ آپ اپنی تعلیم کے لیے امریکہ میں موجود چار ہزار سے زیادہ تسلیم شدہ کالج اور یونیورسٹیوں میں کسی بھی موزوں تعلیمی ادارے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہےکہ ہر ادارہ اپنے طلبہ کو ایک امتیازی تجربہ فراہم کرتا ہے۔

      جدید ترین اور عالمی سطح پر مسابقتی تعلیمی ماحول کے ساتھ ساتھ امریکہ میں اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کی ایک اور اہم وجہ بھی ہے۔ امریکہ ۔ہند تعلیمی فاؤنڈیشن (یو ایس آئی ای ایف) میں ایجوکیشن

      یو ایس اے کی مشیر اَپرنا چندرشیکھرن اس بارے میں بتاتی ہیں ’’امریکی تعلیم میں جو سب سے قیمتی تجربہ ملتا ہے وہ دنیا بھر سے امریکی اور بین الاقوامی طلبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہے۔ مختلف ثقافتوں کی یہ نمائش اور نیٹ ورکنگ کا موقع بے حد انمول ہے جو عالمی عملی زندگی کے لیے پلیٹ فارم تیار کرتا ہے۔‘‘


      یہ منفرد فوائد ان عوامل میں شامل تھے جنہوں  نے چنئی سے تعلق رکھنے والے اروِند نٹراجن اور سُدھا ایم راگھون کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ نٹراجن نے ۲۰۱۹ءمیں نیویارک کی کورنیل یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اب وہ کیلیفورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ہیں۔ راگھون کیلیفورنیا کے بے ایریا میں رہتی ہیں۔ انہوں نے 2019ءمیں پنسلوانیا کی کارنیگی میلون یونیورسٹی سے ماسٹر س ڈگری حاصل کی تھی۔

      پیش ہیں نٹراجن اور راگھون کے ساتھ ایک انٹرویو کے اقتباسات جن کا تعلق درخواست دینے کے عمل اور ان کے تعلیمی تجربات سے ہے۔


      آپ نے امریکی یونیورسٹی میں پڑھائی کا فیصلہ کیوں کیا؟


      نٹراجن: اپنے ڈاکٹریٹ پروگرام کے لیے میں نے ایسے مواقع تلاش کرنے کو ترجیح دی جوجر ثوموں کی جینیات میں میری دلچسپی کے مطابق ہوں۔ میں نے جن پروگراموں میں درخواست دی ان میں سے کورنیل یونیورسٹی کے مائکرو بایولوجی پروگرام کے تین شاندار تحقیقی گروپوں کی پیشکش تھی جو میرے لیے دلچسپی کے حامل تھے۔ اس کے علاوہ ان گروپوں کی قیادت کرنے والے اساتذہ ای میل اور ویڈیو چیٹ کے ذریعے میری دلچسپی کے حوالے سے میرے ساتھ فکر انگیز گفتگو میں مصروف رہےاور ان ممکنہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جن پر میں کام کر سکتا تھا۔

      اپنی پوسٹ ڈاکٹورل تربیت کی خاطر میں نے خصوصی طور پر امریکہ میں پروگراموں کے لیے درخواست دی کیونکہ مجھے امریکی تعلیمی نظام میں  چیزیں آسان لگتی تھیں۔

      راگھون: بچپن سے ہی میں ایک  ایسی عملی زندگی کا انتخاب کرنا چاہتی تھی جو فنون اور تکنیک کا مجموعہ ہو۔ بہت سی راہیں تلاش کرنے کے بعد میں نے متبادل اورورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجیز اور کمپیوٹر گرافکس کے مطالعے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ گرافکس ریسرچ اور مستقبل کی ویژول کمپیوٹنگ ٹیکنالوجیز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کئی اعلیٰ یونیورسٹیاں امریکہ میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ تفریحی صنعت کا ایک مرکز ہونے کی وجہ سے معروف تنظیموں اور کمپنیوں کے درمیان صنعتی سطح کے معاہدے بھی ہیں جو مجھے اس شعبے کے ماہرین کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے علاوہ عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے۔

      اس کے لیے درخواست کا عمل کس قسم کا تھا؟


      نٹراجن: میرے ڈاکٹریٹ پروگرام کے لیے درخواست کا عمل بہت پیچیدہ اور خستہ تھا لیکن چیزوں کی مکمل معلومات نے مجھے باخبر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کی ۔ سب سے پہلے میں نے اپنے مقصد کے بیان پر کچھ مہینوں کے لیے توجہ مرکوز کی۔ میرا مضمون تدوین کے کئی دور سے گزرا جس میں میرے والدین، میرے دوست اور میرے سرپرستوں کے ذریعے فراہم کی گئی معلومات بھی شامل تھیں۔ اس کے بعد میں نے ایپلی کیشن پیکجز بنانے پر کام کیا جسے دلچسپی کے ہر پروگرام کے لیے الگ سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے لیے کچھ تحقیق کی گئی کیونکہ مجھے اساتذہ اور پروگراموں کی بنیادی دلچسپیوں کو سمجھنا تھا اور اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ میں کس طرح تعاون کرنے والا ایک رکن بن سکتا ہوں۔ پھر میں نے ہر پروگرام کے لیے سفارشی خطوط پر کام کیا۔ اس کے بعد میں نے ہر پروگرام کی آخری تاریخ اور ضروریات کا ریکارڈ بھی رکھا تاکہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو۔

      اپنی پوسٹ ڈاکٹورل ٹریننگ کے لیے درخواست دیتے ہوئے مجھے لگا کہ میں نے بہتر تیاری کر لی ہے ۔ مجھے متعدد  اساتذہ تک رسائی اور سائنس پر تبادلہ خیال کرنے میں مزہ آیا جس کے بارے میں ہم دونوں ہی پرجوش تھے۔ تاہم یہ عمل اعصاب شکن بھی تھا کیونکہ مجھے تجربات پر کام کرتے ہوئے اور اپنا مقالہ لکھتے ہوئے کورس کی تکمیل سے پہلے  ہی ایک مقام حاصل کرنا تھا۔

      راگھون: میں نے فوری طور پر اپنے اسکور اور ٹرانسکرپٹ تیار کر لیے تھے ۔ اسکین شدہ اور تصدیق شدہ کاپیاں تیار رہنے سے میری درخواست کے عمل کی رفتار تیز رہی۔ میں نے ایک اسپریڈ شیٹ کے ساتھ آغاز کیا کیونکہ ہر یونیورسٹی کے لیے آخری تاریخوں اور پروگرام کی ضروریات پر نظر رکھنا مشکل تھا۔

      چونکہ میری دلچسپیاں بصری فنون میں تھیں، اس لیے میں نے جو کورس منتخب کیے ان میں سے بیشتر کے لیے درخواست کے حصے کے طور پر آن لائن پورٹ فولیو (تصویروں کا ایک مجموعہ جس سے کسی کے کام کی نشاندہی ہواور جسے نوکری کی عرضی یا کسی مسابقت کی عرضی دیتے ہوئے استعمال کیا جا سکے)یا اسائنمنٹ جمع کرانے کی اضافی ضرورت تھی۔ میں نے اپنے پورٹ فولیو میں تعاون کے لیے اپنے کالج کے پروجیکٹ اور انٹرن شپ کو احتیاط سے ترتیب دینا شروع کیا۔ اسائنمنٹ یا پورٹ فولیو تیار کرنے سے مجھے یہ عملی تجربہ ہوا کہ اگر میں کوئی خاص راستہ اختیارکرتی ہوں تو اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ داخلے کی اجازت ملنے کے بعد  اس سے مجھے  اپنی یونیورسٹی منتخب کرنے میں مدد ملی۔

      ایک نئے ملک میں منتقل ہونا اور اپنی کلاسیں شروع کرنا کیسا تھا؟


      نٹراجن: میں نیو یارک کے اِتھاکا میں رہائش کے متبادل تلاش کرنے کے بہت سے نامعلوم عناصر سے مغلوب تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اپارٹمنٹ میں کون سی سہولتیں تلاش کی جائیں، محفوظ اور آسان مقامات کی شناخت کیسے کی جائے یا پٹے کے معاہدے کی جانچ محتاط طور پر کیسے کی جائے۔ اس لیے میں نے کیمپس میں رہنے کا نسبتاً محفوظ متبادل اختیار کیا۔ اگرچہ شہر میں رہنے کے متبادل سے یہ ذرا زیادہ مہنگا تھا لیکن یہ ایک شاندار انتخاب ثابت ہوا۔ یہاں صرف میری منتقلی ہی بغیر کسی پریشانی کے نہیں ہوئی  بلکہ مجھے پوری یونیورسٹی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک برادری تشکیل دینے کا بھی موقع ملا۔


      کلاسیز کے آغاز نے مجھے بہت زیادہ پُرجوش کیا اوراچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے دباؤ سے ایک قسم کا اعصابی اضطراب بھی پیدا ہوا۔ مجھے امریکی تعلیمی نظام میں ملنے والی ناقابل یقین آزادی کو تلاش کرنا چیلنج سے پُرلگا۔ یہاں مائکرو بایولوجی پروگرام میں اساتذہ اورساتھی سرپرست ناقابل یقین حد تک اچھے تھے۔ ایک بار جب مجھے معلوم ہو گیا کہ یہاں کا نظام کس طرح کام کرتا ہے تو اس میں برتی جانے والی نرمی میرا پسندیدہ حصہ بن گئی۔ مثال کے طور پر میں نے ارجنٹائن ٹینگو پر کلاسوں کے ساتھ حیاتیات اور تحقیق کے اپنے بنیادی شعبے میں کلاسیں لیں۔
      راگھون: ایک بار جب میں نے دوسرے طلبہ سے بات کرنا شروع کی تو مجھے بہت سارے وسائل کا علم ہوا ۔ اپنے روم میٹس سے مجھے ایک فیس بک گروپ کے ذریعے ملنے کا موقع ملا جسے کارنیگی میلون یونیورسٹی میں آنے والے طلبہ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ہم لوگوں نے اسی وقت پِٹس برگ پہنچنے کے لیے اپنے سفر کی تاریخوں کا بھی منصوبہ بنایا۔ اورینٹیشن پروگراموں کے فوراً بعد ہماری کلاسیز شروع ہوگئیں۔ یہ پہلے دن سے ہی مجھے چیلنج سے پُر لگنے لگیں لیکن ہم لوگ  اس کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوئے کیونکہ اس میں اکتاہٹ جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔

      کیا آپ نے امریکہ میں لوگوں سے دوستی کرنا بھی شروع کی؟ کیا وہاں کلب یا دیگر تنظیمیں تھیں جن میں آپ نے شرکت کی؟


      نٹراجن: گریجویٹ اسکول میں ہم نے زندگی کے مختلف شعبوں سے دوست بنائے  جو آ ج بھی مجھے بہت سے حوالوں سے متاثر کرتے ہیں۔ میں نے جو دوست بنائے ان کی پہلی فصل ساتھی طلبہ تھے جو بھارت  سے آئے تھے۔ اس کے بعد میں مائکروبایولوجی پروگرام میں اپنے گروپ سے ملا جو مجھے  میری ضرورت کے سامان کی خرید کے لیے ساتھ لے جایا کرتے تھے کیوں کہ میرے پاس کار نہیں تھی۔ ان کے ساتھ میں امریکی ثقافت کے بارے میں جاننے میں کافی وقت صرف کیا کرتا تھا۔ میں نے ہاؤسنگ کمیونٹی میں ساتھ رہنے والوں، طلبہ سے متعلق سرگرمیوں میں شامل رہنے والوں اور ان کلبوں کے ارکان سے بھی دوستی کی جہاں  میں جایا کرتا تھا ۔ میں نے ان لوگوں سے بھی دوستی کی جو کورنیل سے وابستہ نہیں تھے اور جن سے میری ملاقات شہر کے ارد گرد سماجی تقریبات میں ہوئی تھی۔
      راگھون: میرے بہت سے قریبی دوست میرے گریجویٹ اسکول سے ہیں۔ میرے روم میٹ مختلف پروگراموں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ہم لوگ ہمیشہ اپنے دوستوں کو گروپ اسٹڈی سیشن یا رات میں فلمیں دیکھنےکے لیےمدعوکیا کرتے تھے۔ اس  طور پر ہمیں بہت سے نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ زیادہ تر محکمے  سماجی تقریبات اور کریئر نیٹ ورکنگ تقریبات کا بھی اہتمام کرتے تھے جس سے طلبہ کو  دوسروں کو دعوت دینے میں آسانی ہوتی تھی ۔ اس سے ہمیں اپنے سماجی اور پیشہ ورانہ دونوں حلقوں کو وسعت دینے میں مدد ملی۔ پیشہ ورانہ روابط بنانا ہمارے اسکول کے تجربے کا ایک بہت اہم حصہ تھا۔

      کیا آپ کی توقعات حقیقت سے میل کھاتی تھیں؟ آپ کو کن طریقوں سے حیرت ہوئی؟


      نٹراجن: گریجویٹ اسکول میں میرا تجربہ ہر طرح سے میری توقعات سے کہیں بہتر تھا۔ تعلیمی شعبے میں نہ صرف میں نےمائکرو بایولوجی میں تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں جانا بلکہ کیمپس بھر میں بات چیت میں شرکت کرکے عالمی سیاست اور طرز عمل کی معاشیات جیسے بہت سے مختلف شعبوں کے بارے میں بھی سیکھا۔ میں نے نیویارک کے شمالی حصے میں شدید سرد موسم کا تجربہ کیا اور اِتھاکا کے چھوٹے سے قصبے میں عالمی ثقافت کی جھلک محسوس کی۔ میں نے رقص کی اقسام سیکھیں، پہلی بار ایتھوپیا کا کھانا کھایا اور بیلی ہال میں دنیا بھر کے کچھ بہترین فنکاروں کو اپنے پروگرام پیش کرتے دیکھا۔

      دشواریاں بھی میری توقعات سے کہیں زیادہ تھیں ۔ مجھے بمشکل ہر دوسرے سال گھر جانے کا موقع ملاکرتا تھا۔ میں اپنے کنبے اور دوستوں کی کمی محسوس کیا کرتا تھا۔ دنیا کے اس حصے میں چیزیں کس طرح کام کرتی ہیں اس کے بارے میں میری لاعلمی، موبائل فون پلان کو حاصل کرنے سے لے کر  انکم ٹیکس  رٹرن داخل کرنے اور مختلف سماجی اصولوں تک، تمام چیزیں میرے لیے پریشانی کا باعث ہوتی تھیں۔

      یہ بھی پڑھیں

       Education in USA:امریکہ میں تعلیم کے لیےمیجرکے مضمون کاکیسے کریں انتخاب

       Education in USA: کیاآپ امریکہ میں تعلیم حاصل کرناچاہتےہیں؟کیسےکریں موزوں تعلیمی ادارے کی تلاش؟ جانئے یہاں

       Education in US:امریکہ کے تعلیمی اداروں میں داخلے، آپ کیسے دے سکتے ہیں درخواست جانئے یہاں

      راگھون: چیلنج سے پُر کورس ورک یقینی طور پر میری توقعات کے مطابق تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ امریکہ میں تدریس اور جانچ کا طریقہ کار اس کے مقابلے میں کتنا مختلف ہے جس کا تجربہ ہم نے بھارت میں کیا ہے۔ میں نے مختلف ضمنی وسائل سے تصورات کو جانا، تدریسی معاونین کے ساتھ مطالعاتی گروپوں میں شرکت کی اوراپنے ساتھیوں کے درمیان روابط قائم کیے۔ اس کے علاوہ میرا کورس ورک زبردست طور سے پروجیکٹ پرمبنی تھا۔ لہٰذا ،پہلے ہفتے سے کسی چیز پرعملی طورپر کام کرنا ایک تازگی بخش تجربہ تھا۔
      میں نصاب سے واقف تھی لیکن اس بات سے حیران تھی کہ دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ ٹیموں پر کام کرنا کتنا مختلف ہے۔ ہم نے ٹیم ورک کی اہمیت سیکھی اور اس کو درپیش پریشانیوں کے بارے میں جانا۔ ہم نے یہ بھی سیکھا کہ کس طرح تنوع کسی منصوبے کے حتمی نتیجے میں بڑا فرق پیدا کرسکتا ہے۔  مجھے کبھی بھی کسی اور جگہ اتنے ممالک کے طلبہ سے ملنے کا موقع نہیں ملا تھا ۔ لہٰذا میں کہہ سکتی ہوں کہ گریجویٹ اسکول ان بہت کم مقامات میں سے ایک ہے جو اس طرح کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

      آپ ان لوگوں سے کیا کہنا چاہیں گے جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں غوروفکر کر رہے ہیں؟
      نٹراجن: میں  امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کی بے حد حوصلہ افزائی کروں گا۔ میں آپ کے عالمی نقطہ نظر کی وسعت اور کامیاب تجربے کے لیے درکار وسائل سے آگہی کے ایک موقع کے طور پر مختلف قسم کے تجربات کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیتا ہوں۔ اور حتمی بات، آ پ جو ہیں وہی رہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ اس پروگرام  کے لیے آپ کا انتخاب ہی اسی وجہ سے ہوا۔

      راگھون: میرا پہلا مشورہ یہ ہوگا کہ جلد تحقیق شروع کریں۔ اس کی منصوبہ بندی کہ معیاری آزمائش سے کب گزرنا ہے اور درخواست کا عمل کب شروع کرنا ہے، بہت اہم ہے۔ ایک بار منصوبہ مکمل ہو جائے تو آپ کے پاس اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کافی وقت  ہوگا کہ ہر درخواست اس یونیورسٹی کی شرائط سے مطابقت رکھے جہاں آپ درخواست دے رہے ہیں۔

      داخلہ کمیٹی آپ کو صرف آپ کے ذریعہ ان کے سامنے پیش کردہ مواد کے مجموعے سے ہی جان سکے گی، لہٰذا اپنی درخواست کو زیادہ سے زیادہ واضح اور دلچسپ بنائیں۔  اس کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ یہ بھی سمجھے کہ یونیورسٹی کیا چاہتی ہے۔ زیادہ تر یونیورسٹیاں اپنے سابق  طلبہ کے بارے میں معلومات پیش کرتی ہیں  جس سے پس منظر اور تقاضوں کے تعلق سے اسکول کی توقعات کا اچھا اندازہ ہوجاتا ہے۔

      https://bit.ly/3Jtbc1U

      کینڈس یاکونو جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کےلیے لکھتی ہیں۔

      بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ ، نئی دہلی

       
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: