உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تعلیم کا سلسلہ رہے گا جاری، مسلم ایجوکیشن اینڈ کریئر پروموشن سو سائٹی نے اٹھایا تاریخی قدم

    کورونا قہر میں والدین کی سرپرستی سے محروم بچوں کی تعلیم کے لئے مسلم ایجوکیشن اینڈکیریر پروموشن سو  سائٹی نے بڑا قدم اٹھایا  ہے۔

    کورونا قہر میں والدین کی سرپرستی سے محروم بچوں کی تعلیم کے لئے مسلم ایجوکیشن اینڈکیریر پروموشن سو سائٹی نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔

    کورونا قہر میں والدین کی سرپرستی سے محروم بچوں کی تعلیم کے لئے مسلم ایجوکیشن اینڈکیریر پروموشن سو سائٹی نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔

    • Share this:
    کورونا کی وبائی بیماری کا زور بھلے ہی اب کم ہوگیا اور معمولات زندگی پٹری پر آنے لگی ہے لیکن اب بھی کورونا قہر اور ہر جانب لاشوں کا منظر یاد آتا ہے توروح کانپ اٹھتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے دوسرے شہروں کی طرح راجدھانی بھوپال میں بھی کورونا کی وبائی بیماری کے سبب نہ جانے کتنے خوشحال گھر ویران ہوگئے ۔ ایسے گھرانے جن کے یہاں کورونا کی دستک سے محرومی ہوئی ان گھرانے کے طلبا کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی نے تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ اپنوں کی سرپرستوں سے محرومطلبا کی سو سائٹی کے ذریعہ نہ صرف ان کے کیریر کولیکر کونسلنگ کی گئی بلکہ انہیں ان کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے چیک بھی تقسیم کئے گئے ۔
    مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی کے نائب صدر سید ارشد علی کہتے ہیں کہ اقلیتی طلبا کو تعلیمی مواقعہ فراہم کرنا اور انہیں اسکالرشپ دینے کا سو سائٹی کے ذریعہ گزشتہ تیس سالوں سے جاری ہے لیکن کورونا کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس میں سو سائٹی نے اپنی ترجیحات کو کچھ تبدیل کیا ہے ۔ پہلے ان طلبا کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے ان کی کیریر کونسلنگ کے ساتھ انہیں چیک تقسیم کئے گئے ہیں تاکہ ایسے طلباذہنی تناؤ سے باہر آئیں اور خوشگوار ماحول میں اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھ سکیں۔ابھی ابتدائی طور پر پینتس طلبا کی مدد کی گئی ہے ،آگے بھی سلسلہ جاری رہے گا ۔ساتھ ہی میریٹوریئس طلبا اور غریب و نادار طلبا کو اسکالرشپ دینے کا کام بھی دوسرے مرحلے میں جاری ہوگا۔ ہماری کوشش ہے کہ مالی مشکلات کے سبب کسی بچے کی تعلیم کاسلسلہ نہ رک سکے ۔
    وہیں ممتاز کیر یر کونسلرڈاکٹر محمد عاصم کہتے ہیں کہ اقلیتی طلبا کی صلاحیت میں دوسرے کمیونٹی کے بچوں سے صلاحیت کسی درجہ کم نہیں ہے بس ضرورت انہیں صحیح رہنمائی کی ہے۔ یہاں پر مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی کے ذریعہ بڑا قدم اٹھایا گیا ہے ۔جہاں طلبا کو مالی مدد بھی کی جا رہی ہے ساتھ ہی انہں کیریر کونسلروں کے ذریعہ کیریر کو لیکر کونسلنگ بھی کی جا رہی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ اتنی محنت کے بعد سو سائٹی کا وہ ریسپانس نہیں ملتا ہے جس کی توقع ہے تو اچھا نہیں لگتا ہے۔
    مہک کہتی ہے کہ کورونا قہر کے بعد جس طرح سے مشکلات کھڑی ہوئی ہیں اس میں گھر کی ضروریات کا ہی پورا ہونا مشکل ہوگیا ہے ایسے میں تعلیم کا خواب دیکھنا تو جوئے شیر کے لانے جیسا ہے ۔لیکن اللہ کا شکرہے کہ آج مسلم ایجوکیشن اینڈکیریرپروموشن سو سائٹی کے آفس میں ہمیں بلاکر ہماری کیریر کو لیکر کونسلنگ کی گئی اور ہمیں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے چیک بھی دیا گیا ہے ۔بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ ان کی مدد سے پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاؤں اور پھر میں بھی سماج کے ضرورتمندوں کا حصہ بن سکوں۔
    علینا نسیم کہتی ہیں کہ میں دسویں جماعت میں پڑھتی ہوں ۔کورونا قہر کے سبب مرےگھرمیں جومشکلات آئیں اس کے سبب مالی مشکلات بھی تعلیم کی راہ میں حائل ہوگئیں۔میرے دوستوں نے مجھے یہاں کے بارے میں بتایا تو میں یہاں آئی اور ان لوگوں نے میری بہت مدد کی ہے۔میری کتاب کی مشکل بھی ختم ہوگئی اور تعلیم کو آگے جاری رکھنے کو لیکر جو مالی مشکلات تھیں اسے بھی انہوں نے حل کردیا ہے ۔اب میں کسی روکاوٹ کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں گی۔اور دنیا جیت کر دکھاؤنگی۔

    مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی کے ذریعہ ایسے طلبا جن کے والدین یا سرپرست کورونا قہر میں دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کا سروے کرایا گیا اور ان کی تعلیمی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں کتاب فراہمی اور فیس کی ادائیگی کے لئے قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس تعلق سے طلبا اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس انداز میں کرتے ہیں ۔

    واضح رہے کہ مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی کے ذریعہ اسی کی دہائی سے اقلیتی طلبا کو اسکالرشپ فراہم کرنے کا کام کیا جاتا ہے لیکن اس بار حالات کے مدنظر سو سائٹی نے پہلے ان طلبا کو اسکالرشپ کی شکل میں مالی تعاون کرنے کا قدم اٹھایا ہے جو طلبا کورونا قہرمیں اپنے سرپرستوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ سو سائٹی کے ذریعہ دیگر طلبا کی مالی مدد اور کیریر کونسلنگ کا کام دوسرے مرحلے میں جاری کیا جائے گا تاکہ سبھی طرح کے ضرورتمند طلبا کی تعلیمی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: